نئی دہلی۔ نوجوان ہندوستانی پہلوانوں نے چہارشنبہ کو یہاں جنتر منتر پر سینئر ریسلرس بجرنگ پونیا، ونیش پھوگٹ اور ساکشی ملک کے خلاف احتجاج کیا۔ مشتعل نے ریسلرس ہندوستان میں کشتی کی ترقی میں رکاوٹ ڈالنے کے لیے تینوں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا۔ ریکارڈ کے لئے نوجوان پہلوانوں کو 2023 میں کسی بھی قومی ایونٹ میں کھیلنے کا موقع نہیں ملا کیونکہ بجرنگ ساکشی اور ونیش کی قیادت میں ریسلنگ فیڈریشن آف انڈیا (ڈبلو ایف آئی) کے سابق صدر برج بھوشن شرن سنگھ کے خلاف جنسی ہراسانی میں ملوث ہونے کے خلاف احتجاج کیا گیا تھا۔ جنتر منتر پر بہت سے نوجوان پہلوان جمع ہوئے، انہوں نے کارروائی اور یونائیٹڈ ورلڈ ریسلنگ ( یو ڈبلو ڈبلو) کی جاری ڈبلو ایف اے جھگڑے میں مداخلت کا مطالبہ کیا۔ ہندوستانی ریسلنگ میں جاری بحران نے آج ایک نیا موڑ لیا جب سینکڑوں جونیئر پہلوان جنتر منتر پر جمع ہو کر اپنے کیریئر کے ایک اہم سال کے ضائع ہونے کے خلاف تین گھنٹے کے علامتی احتجاج کے لیے جمع ہوئے۔ جس میں انہوں نے سرفہرست گریپلرز بجرنگ پونیا، ساکشی ملک اور ونیش پھوگٹ کو مورد الزام ٹھہرایا۔ بسوں میں جونیئر پہلوان اتر پردیش، ہریانہ اور دہلی کے مختلف حصوں سے یہاں پہنچے۔ ان میں سے تقریباً 300 افراد چھپرولی، باغ پت کے آریہ سماج اکھاڑہ سے آئے تھے جب کہ بہت سے دوسرے نریلاکی ویریندر ریسلنگ اکیڈمی سے آئے تھے۔ سیکورٹی اہلکاروں نے انہیں قابو کرنے میں جدوجہد کی کیونکہ وہ پونیا، ملک اور پھوگٹ کے خلاف نعرے لگا رہے تھے۔