بجلی ترمیمی بل کے خلاف 18اگست کو ملک گیر مظاہرہ

   

پوروانچل میں خانگیانے کے منصوبے پر عمل کے آغاز کا ادعا۔ مرکزی مالی امداد کے بہانے خانگیانہ کئی ریاستوں پر مسلط کرنے کا الزام

لکھنو : نیشنل کوآرڈی نیشن کمیٹی آف الیکٹرسٹی ایمپلائنڈ اینڈ انجینئرس نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ پرائیویٹائزیشن کے مسودے کو قطعی قبول نہیں کیا جائے گا اور 18اگست کے احتجاجی مظاہرہ کے بعد بھی اگر مرکز ی اور ریاستی حکومتوں نے پرائیویٹائزیشن کی تجویز پر کارروائی نہیں روکی تو پندرہ لاکھ بجلی ایمپلائز ملک گیر تحریک شروع کرنے کے لئے مجبور ہوں گے جس کی پوری ذمہ داری مرکزی اور ریاستوں کی ہوگی۔ بجلی ترمیمی بل 2020اور مرکز کے زیرانتظام ریاستوں، اترپردیش اور اڑیسہ میں بجلی کی پرائیویٹائزیشن کے خلاف آئندہ 18اگست کو بجلی ملازمین اور انجینئر پورے ملک میں احتجاجی مظاہرے اورجلسے کریں گے ۔آل انڈیا پاور انجینئرس فیڈریشن کے چیرمین شلیندر دوبے نے آج یہاں کہا کہ نیشنل کوآرڈی نیشن کمیٹی آف الیکٹرسٹی ایمپلائز اینڈ انجینئرس (این سی سی او) کی اپیل پر پورے ملک میں پاور سیکٹر میں کام کرنے والے تمام 15لاکھ بجلی ملازم اور انجینئر 18اگست کے احتجاجی مظاہرے میں شامل ہوں گے ۔ انہوں نے کہا کہ الیکٹرسٹی (امینڈمنٹ) بل 2020کے مسودہ پر بجلی کے مرکزی وزیر کی گزشتہ تین جولائی کو ریاستو ں کے وزیر توانائی وزرا کے ساتھ ہوئی میٹنگ میں گیارہ ریاستوں اور دو مرکز کے زیرانتظام ریاستوں نے الیکٹرسٹی (امینڈمنٹ) بل 2020کے پرائیویٹائزیشن مسودے کی مخالفت کی تھی۔ فیڈریشن کے چیرمین شیلندر دوبے نے دعوی کیا کہ نتیجہ کے طورپر تین جولائی کی میٹنگ میں بجلی کے مرکزی وزیر آ ر کے سنگھ نے اعلان کیا کہ ریاستی حکومتوں کی مخالفت کے پیش نظر الیکٹرسٹی (امینڈمنٹ) بل 2020کے مسودے میں ترمیم کی جائے گی۔

افسوس کی بات ہے کے وزیر توانائی کی میٹنگ کے ڈیڑھ مہینہ بعد بھی الیکٹرسٹی (امینڈمنٹ) بل 2020کی ترمیم کا خاکہ وزارت توانائی نے اب تک عوامی نہیں کیا ہے اور مرکزی حکومت ریاستوں پر دباؤ ڈال کر پرائیویٹائزیشن کا ایجنڈہ آگے بڑھا رہی ہے جس سے بجلی ملازمین بہت غصہ ہے ۔انہوں نے کہا کہ مرکز کے زیرانتظام خاص طورپر چنڈی گڑھ، پڈوچیری، انڈومان نکوبار، لداخ اور جموں وکشمیر میں پرائیویٹائزیشن کا عمل تیزی سے چل رہا ہے ۔ ساتھ ہی اترپردیش میں پوروانچل پاور ڈسٹری بیوشن کارپوریشن کے پرائیویٹائزیشن کی تجویز پر کام شروع ہوگیا ہے۔ دوسری طرف اڑیسہ میں سنٹرل الیکٹرسٹی سپلائی انڈرٹیکنگ کو ٹاٹا پاور کو ہینڈآور کردیا گیا ہے اور تین دیگر پاور ڈسٹری بیوشن کمپنیوں نیسکو، ویسکو اور ساوتھکو کے پرائیویٹائزیشن کا عمل شروع ہوگیا ہے ۔ مرکزی حکومت کے دباو میں چل رہیں پرائیویٹائزیشن کی سرگرمیوں سے الیکٹریشن اور انجینئروں میں بہت غصہ ہے ۔آل انڈیا پاور انجینئرس فیڈریشن کے چیرمین شلیندر دوبے نے کہا کہ پرائیویٹائزیشن یہ تجربہ اڑیسہ، دہلی، گریٹر نوئیڈا، اورنگ آباد، ناگپور، جلگاوں، آگرہ، اجین، گوالیار، ساگر، بھاگلپور، گیا، مظفر پوروغیرہ کئی مقامات پر مکمل طورپر ناکام ثابت ہوا ہے ۔ اس کے باوجود انہیں ناکام تجربات کو مالیاتی مدد فراہم کرنے کے نام پر مرکزی حکومت مختلف ریاستوں میں اسے تھوپ رہی ہے جو ایک طرح سے بلیک میلنگ ہے ۔