بجٹ اجلاس میں عوامی مسائل کو پیش کرنے کانگریس کا فیصلہ

   

کم از کم 23 دن کے اجلاس کا مطالبہ، بھٹی وکرامارکا کی پریس کانفرنس

حیدرآباد۔/8 ستمبر، ( سیاست نیوز) سی ایل پی لیڈر ملو بھٹی وکرامارکا نے اسمبلی کے بجٹ اجلاس کو 23 دن تک جاری رکھنے کا مطالبہ کیا تاکہ عوام کو درپیش مسائل پر سیر حاصل مباحث ہوسکیں۔ انہوں نے میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ اسمبلی اجلاس کی طلبی کے معاملہ میں ٹی آر ایس حکومت کا رویہ ناقابل فہم ہے۔ ہمیشہ انتہائی مختصر وقفہ کیلئے اجلاس طلب کیا جاتا ہے جیسے کہ حکومت کو صرف ضابطہ کی تکمیل کی فکر ہو۔ انہوں نے کہا کہ بجٹ اجلاس کم از کم 23 دن کا ہونا چاہیئے اور حکومت کو کم ایام کے بارے میں فیصلہ سے گریز کرنا چاہیئے۔ انہوں نے بتایا کہ کانگریس پارٹی وبائی امراض، کسانوں کو قرض معافی، زرعی پیداوار کی امدادی قیمتیں اور یوریا کی قلت جیسے مسائل کو پیش کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے بیروزگار نوجوانوں کیلئے بیروزگاری بھتہ کا اعلان کیا تھا لیکن آج تک عمل آوری کا آغاز نہیں ہوا ہے۔ کے سی آر نے تلنگانہ تحریک کے دوران نوجوانوں کو روزگار کی فراہمی کا وعدہ کیا لیکن ریاست کی تشکیل کے بعد فراموش کردیا گیا۔ کانگریس پارٹی بیروزگار نوجوانوں کے مسائل پر حکومت کو گھیرنے کی کوشش کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ ایس سی ، ایس ٹی سب پلان کیلئے مختص رقومات کو منتقل کرنے پر بھی حکومت سے سوال کیا جائے گا۔ ڈبل بیڈ روم مکانات کی فراہمی کا وعدہ ادھورا ہے۔ اس کے علاوہ موجودہ اندراماں ہاؤزنگ مکانات کو بھی حکومت نے مکمل کرنے سے گریز کیا ہے۔ بھٹی وکرامارکا نے بتایا کہ کالیشورم پراجکٹ میں بڑے پیمانے پر بے قاعدگیاں، سیتا رام پراجکٹ کے ٹنڈر میں دھاندلیوں کے بارے میں اعداد و شمار کے ساتھ ایوان میں حکومت سے سوال کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ کے سی آر حکومت نے تفصیلی پراجکٹ رپورٹ ارکان اسمبلی کو پیش کرنے کا وعدہ کیا تھا لیکن آج تک یہ رپورٹ پیش نہیں کی گئی۔ کے سی آر نے 57 سال کی عمر والوں کو وظیفہ دینے کا اعلان کیا تھا لیکن آج تک عوام وظیفہ کے انتظار میں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وبائی امراض سے نمٹنے میں حکومت بری طرح ناکام ہوچکی ہے۔ سرکاری دواخانوں میں بنیادی سہولتوں کی عدم فراہمی کے سبب عوام خانگی دواخانوں کا رخ کررہے ہیں جہاں انہیں بھاری رقم چکانی پڑرہی ہے۔ بھٹی وکرامارکا نے کہا کہ وبائی امراض جس تیزی سے پھیل رہے ہیں ریاست میں ہیلت ایمرجنسی کے نفاذ کی ضرورت ہے۔ چیف منسٹر کے سی آر نے آج تک ایک بھی جائزہ اجلاس منعقد نہیں کیا۔