بجٹ تقریر میں چیف منسٹر کا نام 30 مرتبہ اور ٹی آر ایس کا ذکر 11 مرتبہ

   

محمد علی شبیر کا الزام، بجٹ تقریر پارٹی پمفلٹ ، اقلیتی بہبود بجٹ میں معمولی اضافہ
حیدرآباد۔7۔ مارچ (سیاست نیوز) سابق اپوزیشن لیڈر محمد علی شبیر نے کہا کہ وزیر فینانس ہریش راؤ نے ریاستی بجٹ کی تقریر کو ٹی آر ایس کے پمفلٹ میں تبدیل کردیا ہے۔ بجٹ تقریر میں چیف منسٹر کا نام 30 مرتبہ اور ٹی آر ایس کا ذکر 11 مرتبہ کیا گیا ہے۔ بجٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے محمد علی شبیر نے الزام عائد کیا کہ مالیتی سال 2022-23 ء بجٹ کو ہریش راؤ نے پارٹی کے تشہیری پمفلٹ میں تبدیل کردیا ہے۔ بجٹ میں وزیر فینانس کی معاشی شعبہ میں معلومات کی کمی کا واضح طور پر اظہار ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بجٹ تقریر میں حکومت ریاست کے معاشی موقف کی واضح طور پر تصویر پیش کرتی ہے جس میں گزشتہ ایک سال کی کارکردگی اور آئندہ سال کے منصوبوں کا اظہار ہوتا ہے ۔ بجٹ میں آمدنی اور خرچ کے بارے میں کوئی واضح تفصیلات پیش نہیں کی گئی ۔ بجٹ میں گمراہ کن اور غلط معلومات اور دعوے کئے گئے ہیں۔ بجٹ تقریر سے ثابت ہوتا ہے کہ ہریش راؤ معیشت اور مالی امور سے ناواقف ہے۔ محمد علی شبیر نے کہا کہ بجٹ تقریر میں ’’ٹی آر ایس گورنمنٹ‘‘ لفظ کا استعمال انتہائی نامناسب ہے۔ ہریش راؤ تلنگانہ حکومت کے وزیر ہیں نہ کہ ٹی آر ایس کے ۔ انہیں تلنگانہ حکومت یا ریاستی حکومت جیسے الفاظ کا استعمال کرنا چاہئے تھا ۔ 76 صفحات پر مشتمل تقریر میں 11 مرتبہ لفظ ٹی آر ایس حکومت کا استعمال کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ہریش راؤ نے 30 مرتبہ چیف منسٹر کے سی آر کا نام لیا لیکن بیروزگاری اور بیروزگار نوجوانوں کا کوئی تذکرہ نہیں کیا ۔ بجٹ تقریر میں 1.92 لاکھ مخلوعہ جائیدادوں پر تقررات کیلئے نوٹفکیشن کی اجرائی پر حکومت خاموش ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اعداد و شمار کے الٹ پھیر کے ذریعہ ہریش راؤ نے بجٹ کو ترقیاتی ثابت کرنے کی کوشش کی ہے۔ کسانوں کے قرض معافی کے علاوہ تعلیم اور صحت کے لئے بجٹ منظوری پر حکومت کا موقف واضح نہیں ہے۔ دلت بندھو کے تحت 17 لاکھ خاندانوں کو امداد کا منصوبہ ہے لیکن بجٹ میں صرف 17700 کروڑ مختص کئے گئے ۔ انہوں نے کہا کہ ایس سی ، ایس ٹی، اقلیت اور دیگر طبقات کے غریب خاندانوں کیلئے دلت بندھو طرز کی اسکیم شروع کی جائے۔ وزیر فینانس نے اقلیتی بہبود کیلئے تاحال 6644 کروڑ خرچ کرنے کا دعویٰ کیا لیکن آئندہ بجٹ میں خرچ کے بارے میں کوئی وضاحت نہیں ہے۔ گزشتہ سال 1602 کروڑ مختص کئے گئے تھے اور اس مرتبہ 1728.71 کروڑ اقلیتی بہبود کیلئے مختص کئے گئے جو محض 126 کروڑ کا اضافہ ہے۔ گزشتہ 8 برسوں میں حکومت نے اقلیتی بہبود کا 50 فیصد بجٹ بھی خرچ نہیں کیا۔ حکومت کا 2.56 کروڑ کا بجٹ صرف تشہیری اسکیمات اور اعداد و شمار کے الٹ پھیر پر مشتمل ہے۔ر