بجٹ سیشن سے چیف منسٹر اور فلور لیڈر کی غیر حاضری معنیٰ خیز

   

اقلیتوں کو مایوسی، مسائل جوں کے توں برقرار، ایوان میں نوراکشتی کا منظر
حیدرآباد۔ 21 ستمبر (سیاست نیوز) تلنگانہ اسمبلی کے 10 روزہ بجٹ سیشن میں عوام بالخصوص اقلیتوں کو حکومت اور حلیف جماعت سے مایوسی ہوئی۔ 10 روزہ اجلاس میں چیف منسٹر تاحال صرف تین دن شریک رہے جبکہ حلیف جماعت جسے ایوان میں اہم اپوزیشن کا موقف دیا گیا ہے، اس کے فلور لیڈر صرف دو دن حاضر ہوئے۔ بجٹ پر روایتی و حکومت سے میچ فکسنگ پر مبنی تقریر کے بعد فلور لیڈر بیرون ملک روانہ ہوگئے اور اقلیتوں کے مسائل کو چیف منسٹر کی صوابدید پر چھوڑ دیا۔ چیف منسٹر نے فلور لیڈر کے غیاب میں بجٹ پر جواب دیا اور حلیف جماعت کے ’تعمیری تنقید‘ موقف کی ستائش کی اور ہمیشہ کی طرح مسلمانوں کو حوش کرنے کچھ تیقنات دیئے۔ مسلمانوں کو امید تھی کہ اجلاس میں اقلیتی بہبود کے بجٹ میں کمی، شہر میں وبائی امراض، اقلیتی اسکیمات پر عمل آوری میں سستی اور اقلیتی اداروں کو بجٹ کی عدم اجرائی پر حکومت سے ٹھوس جواب حاصل کیا جاتا لیکن فلور لیڈر تقریر کے بعد غائب ہوگئے اور اقلیتوں کے مسائل دھرے کے دھرے رہ گئے۔ 9 ستمبر کو بجٹ اجلاس کا آغاز ہوا اور چیف منسٹر کے سی آر نے اسمبلی ‘ وزیر فینانس ہریش رائو نے کونسل میں بجٹ پیش کیا۔ اس کے بعد محرم اور گنیش کی تعطیلات 14 ستمبر تک رہیں۔ 14 ستمبر کو دوبارہ سیشن شروع ہوا جو ہفتہ، اتوار کو تعطیل کے باوجود مسلسل جاری ہے اور کل 22 ستمبر اتوار کو تصرف بل کی منظوری کے بعد اختتام کو پہنچے گا۔ حلیف جماعت کے فلور لیڈر نے 14 ستمبر کو ایوان میں بجٹ پر تقریر کی جس میں مسجد یکخانہ عنبر پیٹ اور آلیر انکائونٹر کے خاطی عہدیداروں کو سزا کا مطالبہ شامل تھا۔ دوسرے دن کے سی آر نے جواب میں طویل خطاب کیا لیکن مسلمانوں کے عمومی مسائل کا احاطہ کرکے مکمل بجٹ جاری کرنے کا تیقن دیا۔ انہوں نے مسجد یکخانہ اور آلیر انکائونٹر جیسے مطالبات کو نظرانداز کردیا۔ ایوان میں باقی ایام کے دوران بھی دوست جماعت اور حکومت کے درمیان ’نوراکشتی‘ دیکھی گئی اور ایک دوسرے کے کان خوش کرکے مسلمانوں کے حقیقی مسائل نظرانداز کردیے گئے۔ 15 ستمبر کو بجٹ پر مباحث کا جواب دینے کے بعد چیف منسٹر 19 ستمبر کو ایوان میں حاضر ہوئے اور سنگارینی کالریز کے ملازمین کیلئے بونس اور ملازمین پولیس کیلئے ہفتہ واری تعطیل کی تجویز پر بیان دیا۔ چیف منسٹر شاید کل آخری دن تصرف بل پر مباحث کا جواب دینے موجود رہیں گے۔ بجٹ اجلاس وبائی امراض سے متاثر لاکھوں خاندانوں اور انٹر نتائج میں بے قاعدگیوں سے خودکشی کرنے والے 28 طلبہ کے خاندانوں کیلئے مایوس کن ثابت ہوا۔ دوست جماعت کو اپوزیشن کا موقف دے کر کانگریس کی آواز کچلنے کی کوشش کی گئی لیکن بھٹی وکرامارکا کی قیادت میں 5 کانگریسی ارکان نے عوامی مسائل اور بدعنوانی اور بے قاعدگیوں پر آواز اٹھاتے ہوئے حکومت کو دفاعی موقف میں ڈال دیا۔ اسمبلی کے دوران چیف منسٹر اور دوست جماعت کے قائد کی غیر حاضری دیگر ارکان میں بحث کا موضوع بن چکی تھی۔