اقلیتوں کو تعلیم سے دور کرنے کی سازش، عبداللہ سہیل اور نظام الدین کی پریس کانفرنس
حیدرآباد ۔ 11 ۔ ستمبر (سیاست نیوز) کانگریس پارٹی اسمبلی کے بجٹ اجلاس میں اقلیتی بہبود کے بجٹ میں کمی کے مسئلہ کو شدت کے ساتھ پیش کرے گی اور بجٹ میں اضافہ کا مطالبہ کیا جائے گا ۔ پردیش کانگریس کمیٹی میناریٹی ڈپارٹمنٹ کے صدرنشین شیخ عبداللہ سہیل اور پارٹی ترجمان نظام الدین نے آج میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ریاستی بجٹ میں اقلیتوں کے ساتھ نہ انصافی کی گئی ہے ۔ بجٹ سے اقلیتوں کو مایوسی ہوئی کیونکہ چیف منسٹر ہمیشہ اقلیتوں کی بھلائی اور ترقی کے بلند بانگ دعوے کرتے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ سال اقلیتی بہبود کا بجٹ 1886 کروڑ تھا جسے گھٹاکر 1314 کروڑ کردیا گیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اقلیتی بہبود کی 30 مختلف اسکیمات میں 17 اسکیمات کیلئے بجٹ 50 فیصد سے بھی کم کردیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اقامتی اسکولوں ، سبسیڈی اسکیم ، اردو اکیڈیمی اسکیمات ، اردو گھر شادی خانوں کی تعمیر ، اسکالرشپ ، اوورسیز اسکالرشپ ، وقف بورڈ ، سکھ بھون ، کرسچین بھون اور دیگر اسکیمات کے لئے بجٹ میں تخفیف کردی گئی ۔ عبداللہ سہیل نے کہا کہ اقامتی اسکولوں کا بجٹ 735 کروڑ سے گھٹا کر 470 کروڑ کردیا گیا ہے اور 270 کروڑ کی تخفیف کردی گئی۔ اقامتی اسکولوں میں ہزاروں طلبہ زیر تعلیم ہیں ، ان کے مستقبل سے کھلواڑ کی جارہی ہے ۔ انہوں نے حکومت سے سوال کیا کہ بجٹ میںکمی طلبہ کے انفراسٹرکچر ، اساتذہ کی تنخواہوں یا عمارتوں کے کرایہ جیسے اہم امور میں کس سے کی گئی اور کمی کا اثر کس شعبہ پر پڑے گا۔ بجٹ میں کمی سے کیا اقامتی اسکولوں کی کارکردگی متاثر نہیں ہوگی ؟ انہوں نے کہا کہ اقلیتوں کے لئے بینکوں سے مربوط سبسیڈی اسکیم کا بجٹ 160 کروڑ تھا ، جسے گھٹاکر محض 28 کروڑ کردیا گیا ہے ۔ اقلیتی فینانس کارپوریشن کو دیڑھ لاکھ درخواستیں داخل کی گئی تھی لیکن آج تک واضح نہیں ہوا کہ کتنی درخواستوں کی یکسوئی کی گئی۔ عبداللہ سہیل اور نظام الدین نے کہا کہ گزشتہ سال کے 1800 کروڑ میں سے بمشکل نصف بجٹ جاری کیا گیا تھا ۔ اب 1314 کروڑ میں آئندہ 6 ماہ کے دوران بمشکل 300 کروڑ جاری کئے جائیں گے ۔ کانگریس قائدین نے اسکالرشپ اور اوورسیز اسکالرشپ اسکیم کے بجٹ میں تخفیف پر سخت تنقید کی اور کہا کہ اس سے اقلیتوں کی تعلیمی ترقی متاثر ہوگی ۔ حکومت سازش کے تحت اقلیتوں کو تعلیم سے دور کرنا چاہتی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ شادی مبارک اسکیم کے چیکس گزشتہ کئی ماہ سے جاری نہیں کئے گئے۔ عبداللہ سہیل نے کہا کہ دعوت افطار کے بجٹ میں کمی سے مسلمانوں کو کوئی اعتراض نہیں لیکن حکومت کو تعلیمی اور معاشی ترقی کے بجٹ میں کمی نہیں کرنی چاہئے ۔ کانگریس قائدین نے کہا کہ اسمبلی میں اکبر الدین اویسی اور کے سی آر کی ڈرامہ بازی بند ہونی چاہئے ۔ عوام کے دکھاوے کیلئے مجلس کی جانب سے حکومت پر تنقید کی جاتی ہے جبکہ اسمبلی کے باہر دونوں حلیف جماعت ہیں۔