علاج کے اخراجات پر انکم ٹیکس میں چھوٹ کی حد کو بڑھانے کا مطالبہ، حکومت کی نظر میں وکست بھارت کی طرف پیشرفت
نئی دہلی، 12 فروری (یواین آئی) راجیہ سبھا میں جمعرات کو مالی سال 2026-27 کے عام بجٹ پر بحث جاری رکھتے ہوئے حکمراں جماعت کے ارکان نے اسے ترقی یافتہ ہندوستان کا بجٹ قرار دیا جبکہ اپوزیشن نے الزام لگایا کہ اس میں عام لوگوں کو نظرانداز کیا گیا ہے ۔ مہاراشٹر سے شیو سینا (یو بی ٹی) کی پرینکا چترویدی نے کہا کہ بجٹ میں بزرگوں کو نظرانداز کیا گیا ہے ۔ اندازہ ہے کہ 2050 تک تقریباً 30 کروڑ شہری 60 سال سے زیادہ عمر کے ہوں گے ۔ ریلوے کرایوں میں دی جانے والی رعایت کورونا کے دوران ختم کر دی گئی تھی جو اب تک بحال نہیں ہوئی۔ انہوں نے علاج پر ہونے والے اخراجات پر انکم ٹیکس میں چھوٹ کی حد بڑھانے کا مطالبہ کیا۔ راجستھان سے بی جے پی کے مدن راٹھور نے کہا کہ یو پی اے دور میں براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری 98 ارب ڈالر تھی جو اب بڑھ کر 165 ارب ڈالر ہو گئی ہے ۔ ہندوستان دنیا کا دوسرا بڑا موبائل تیار کنندہ بن گیا ہے ۔ ایٹمی توانائی کی صلاحیت 4,780 میگاواٹ سے بڑھ کر 8,880 میگاواٹ ہوگئی۔ موجودہ حکومت نے نئے ایمس، آئی آئی ٹی اور ایئرپورٹ بنائے ۔ قومی شاہراہ کی تعمیر 12 کلومیٹر روزانہ سے بڑھ کر 28 کلومیٹر روزانہ ہو گئی۔ حکومت نے مختلف فصلوں کے کم از کم امدادی قیمتیں بڑھائیں۔ کرناٹک سے کانگریس کے جی سی چندرشیکھر نے کہا کہ امریکہ کے ساتھ معاہدے سے ’’میک ان انڈیا‘‘ کو نقصان ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ’’اچھے دن‘‘ اور ’’امرت کال‘‘ کا اثر یہ ہوا کہ 2014 میں بی جے پی کے پاس 295 کروڑ روپے تھے جو اب بڑھ کر 10,000 کروڑ ہو گئے ہیں، ایک صنعتکار جس کی دولت 44,000 کروڑ روپے تھی اب 12-13 لاکھ کروڑ روپے ہو گئی ہے ، لیکن کسانوں کی آمدنی اب تک دگنی نہیں ہوئی۔ انہوں نے بجٹ کو کارپوریٹ کے مفاد میں قرار دیا۔ بہار سے بی جے پی کے شنبھو شرن پٹیل نے کہا کہ یہ بجٹ 2047 تک ہندوستان کو ترقی پذیر سے ترقی یافتہ ملک بنانے والا ہے۔ آج ہندوستان دنیا کی چوتھی سب سے بڑی معیشت ہے اور چند سال میں تیسری سب سے بڑی معیشت بن جائے گا۔ مکھانا بورڈ کے لیے 3,200 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں جس سے بہار کے کسان اور مزدور فائدہ اٹھائیں گے۔
گجرات سے بی جے پی کے ماینک کمار نائک نے کہا کہ ترقی یافتہ ہندوستان کے خواب کو پورا کرنے کے لیے یہ بجٹ پیش کیا گیا ہے ۔ گزشتہ 11 سال میں دیہاتوں میں پانی، بجلی، سڑک، صحت اور تعلیم پہنچانے کے لیے حکومت نے منصوبے بنائے ۔ اس بجٹ میں یہ یقینی بنایا گیا ہے کہ وزیراعظم ویشوکرما یوجنا اور ترقی یافتہ ہندوستان ’’جی رام جی‘‘ یوجنا کے تحت دیہات کے لوگوں کو روزگار ملے ۔
گجرات سے ہی بی جے پی کے کیسری دیوسنگھ جھالا نے بجٹ کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ جب دنیا کی معیشتیں بحران میں ہیں تب ہندوستان اپنا پرچم لہرا رہا ہے ۔ جب دنیا بھر میں جی ڈی پی دو سے تین فیصد کے درمیان ہے ، چین بھی چار سے پانچ فیصد کی شرح سے بڑھ رہا ہے ، ہندوستان سات فیصد سے زیادہ کی شرح سے ترقی کر رہا ہے ۔
کیرالہ سے کمیونسٹ پارٹی کے پی۔ سندوش کمار نے بجٹ کی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس میں عام لوگوں کے لیے کچھ نہیں ہے ۔ انہوں نے کہا کہ بجٹ میں کیرالہ کے لیے کچھ نہیں کیا گیا۔ اگر مرکز کو کیرالہ سے 100 روپے کی آمدنی ہوتی ہے تو کم از کم 50 روپے واپس ملنے چاہئیں، لیکن صرف 25 روپے ہی واپس مل رہے ہیں۔