نئی دہلی: لوک سبھا میں عام بجٹ میں ریلوے سے متعلق گرانٹس اور اسکیموں کے مطالبات پر مزید بحث کے دوران اراکین نے بدھ کو ریلوے حادثات پر تشویش کا اظہار کیا اور ٹرین خدمات کی توسیع اور اس میں بہتری کا مطالبہ کیا۔منگل کو ایوان میں شروع ہونے والی بحث کو آگے بڑھاتے ہوئے ڈی ایم کے کے ٹی ایم سیلواگناپتی نے کہا کہ ٹرین حادثات کے پیش نظر ریلوے مسافروں کی حفاظت کے لیے مناسب اقدامات کیے جانے چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ ٹرین کی سیکیورٹی کے لیے 44 ہزار آرمر نصب کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا تھا لیکن اب تک صرف 1500 آرمر نصب کیے جا سکے ہیں۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ بجٹ میں ریلوے پراجیکٹس کو صرف برسراقتدار قومی جمہوری اتحاد کی حکومت والی ریاستوں میں فروغ دیا گیا ہے جبکہ غیر بی جے پی حکومت والی ریاستوں کو نظر انداز کیا گیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کے حلقہ وارانسی میں ریلوے پروجیکٹوں کے لیے زیادہ رقم دینے میں کوئی حرج نہیں ہے ، مگر تمل ناڈو کو اس معاملے میں نظر انداز کیا گیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ تمل ناڈو کی ترقی کے لیے ریاست میں ریلوے کی ترقی ضروری ہے ۔بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے دلیپ سائکیا نے کہا کہ مودی حکومت کے دور میں شمال مشرقی ریاستوں میں ریلوے سہولیات میں وسیع پیمانے پر توسیع کی گئی ہے ۔ شمال مشرق کی تمام آٹھ ریاستوں کو اب ریل سہولیات سے جوڑ دیا گیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ 2014 سے پہلے شمال مشرق کی صرف چار ریاستیں ریل کے ذریعے منسلک تھیں۔ شمال مشرق میں ریلوے لائنوں کو اب مکمل طور پر براڈ گیج میں تبدیل کر دیا گیا ہے ۔