بجٹ کی تیاری کیلئے پرجاپالنا پروگرام کا اہتمام۔ ڈپٹی چیف منسٹر

   

6 گیارنٹی پر عمل نہ ہونے کی بی آر ایس اور بی جے پی کی خواہش کبھی پوری نہیں ہوگی

حیدرآباد ۔ 6 جنوری (سیاست نیوز) ڈپٹی چیف منسٹر ملوبٹی وکرامارک نے کہا کہ 6 گیارنٹی پر عمل آوری کیلئے بجٹ تیاری کا جائزہ لینے کیلئے پرجاپالنا پروگرام کے ذریعہ عوام سے درخواستیں قبول کی جارہی ہیں۔ ضلع کھمم کے منڈل ایراپالم میں پرجاپالنا پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے ڈپٹی چیف منسٹر نے کہا کہ بی آر ایس اور بی جے پی نہیں چاہتی ہیکہ 6 ضمانتوں پر عمل کیا جائے تاہم کانگریس حکومت عوام سے کئے گئے وعدوں پر عمل کرتے ہوئے بی آر ایس اور بی جے پی کی ناپاک سازشوں کو ناکام بنادے گی۔ ڈپٹی چیف منسٹر نے کہا کہ 7 ڈسمبر کو کانگریس حکومت تشکیل پائی اندرون 48 گھنٹے 9 ڈسمبر کو ہی دو گیارنٹی پر عمل کیا گیا ماباقی گیارنٹی پر عمل کرنے کیلئے 28 ڈسمبر سے پرجاپالنا پروگرام کا اہتمام کرتے ہوئے عوام سے درخواستیں وصول کی جارہی ہیں۔ کانگریس پارٹی نے انتخابات سے قبل اندراماں راج کا عوام سے وعدہ کیا تھا۔ اسی جانب حکومت پیشرفت کرتے ہوئے عوام سے کئے گئے وعدے کی تکمیل کرنے کی کوشش کررہی ہے۔ اندراماں راجیم میں تلنگانہ عوام کے ساتھ مکمل انصاف ہوگا۔ تلنگانہ میں عوام کو اظہارخیال کی آزادی فراہم کردی گئی ہے۔ تلنگانہ آبادی کی نصف تعداد رہنے والی خواتین کو مہالکشمی اسکیم کے ذریعہ آر ٹی سی بسوں میں مفت سفر کرنے کی سہولت فراہم کردی گئی ہے۔ بی آر ایس حکومت نے سرکاری خزانے کو خالی کردیا ہے۔ باوجود اس کے کانگریس حکومت عوام سے کئے گئے وعدوں کی تکمیل کیلئے ہر ممکن کوشش کررہی ہے۔ راجیو آروگیہ شری اسکیم کی مفت طبی امداد کو 5 لاکھ روپئے بڑھا کر 10 لاکھ روپئے کردیا گیا ہے۔ تلنگانہ حکومت کی جانب سے بجٹ تیاریوں کا آغاز کردیا ہے۔ 6 ضمانتوں پر عمل آوری کیلئے بجٹ کا اندازہ لگانے کیلئے پرجاپالنا کے ذریعہ عوام سے درخواستیں وصول کی جارہی ہیں۔ کانگریس حکومت کی تشکیل کے ایک ماہ مکمل ہونے سے قبل ہی بی آر ایس کی جانب سے وعدوں کی تکمیل میں ناکام ہوجانے کا کانگریس حکومت پر الزام عائد کیا جارہا ہے جو مضحکہ خیز ہے۔ 10 سال تک برسراقتدار رہنے کے باوجود بی آر ایس حکومت نے اہل افراد کو مکانات کی تعمیرات کیلئے اراضی تقسیم نہیں کی۔ بی آر ایس حکومت نے ریاست کو 7 لاکھ کروڑ روپئے کا مقروض بنادیا ہے۔ دولتمند ریاست کو دیوالیہ پن کی ریاست میں تبدیل کردیا ہے جس کے خلاف ہم وائیٹ پیپر جاری کرتے ہوئے حقائق سے ریاست کے عوام کو بتانے کی کوشش کی ہے۔ برقی شعبہ کو 1.10 لاکھ کروڑ روپئے کے قرض میں غرق کردیا گیا ہے۔2