حیدرآباد ۔ 31 ۔ جنوری : ( سیاست نیوز ) : صدر جمہوریہ رام ناتھ کوئند نے بجٹ سیشن کے پہلے دن پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کیا جس میں انہوں نے پر زور انداز میں کہا کہ آئندہ 5 برسوں میں انفراسٹرکچر پراجکٹس پر ایک لاکھ کروڑ روپئے خرچ کئے جائیں گے ۔ صدر جمہوریہ کا خطاب کافی دلچسپ رہا ۔ حالانکہ اقتصادی ماہرین کے مطابق حکومت کے پاس اہم ترین انفراسٹرکچر پراجکٹس کے لیے فنڈس کی قلت پائی جاتی ہے ۔ اس کی وجہ جہاں ملک میں شہریت ترمیمی قانون ، این آر سی اور این پی آر ہے وہیں فرقہ پرستی کے وائرس کے ساتھ ساتھ کرونا وائرس سے پھیلنے والی وباء بھی ماہرین کے خیال میں کرونا وائرس کی وباء کے اثرات عالمی معیشت پر مرتب ہوں گے ۔ جس کے باعث کئی ملکوں کی معیشتیں تباہ ہوجائیں گی ۔ ان میں شائد ہندوستان بھی شامل ہو کیوں کہ فی الوقت ہمارے ملک کو مودی حکومت کی بعض ناعاقبت اندیش پالیسیوں کا خمیاہ بھگتنا پڑ رہا ہے ۔ بہر حال یکم فروری کو وزیر فینانس نرملا سیتا رامن مرکزی بجٹ پیش کریں گی ۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس مرتبہ بجٹ میں انکم ٹیکس سلاب میں تبدیلیاں کی جائیں گی ۔ بجٹ سے پہلے پیش کئے جانے والے معاشی سروے میں انکم ٹیکس سلاب میں تبدیلیوں کے اشارے دئیے گئے ہیں ۔ یہ بھی اشارہ دیا گیا ہے کہ بجٹ 2020 میں جو لوگ ٹیکس ادا کرتے ہیں ان کے لیے حکومت راحت کا اعلان کرے گی ۔ اقتصادی ماہرین سے لے کر کارپوریٹ سیکٹر کے ذمہ داروں کے خیال میں حکومت نے کارپوریٹ ٹیکس میں کٹوتی تو کی لیکن شہریوں پر عائد ہونے والے ٹیکس کی جو حد ہے اس میں اضافہ کیا جانا چاہئے ۔ تب ہی عام شہریوں کی قوت خرید میں اضافہ ہوگا ۔ عام ٹیکس دہندگان کو راحت دینے سے معیشت کی طلب میں اضافہ ہوگا ۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ موجودہ ٹیکس سلاب میں 2.5 لاکھ روپئے کی آمدنی پر کوئی ٹیکس عائد نہیں ہے کیا حکومت اس حد کو بڑھا کر 5 لاکھ تک کرے گی ؟ اس کے امکانات کم دکھائی دیتے ہیں ۔۔