بجٹ 2026: حقیقی بحرانوں سے انجان اور جھوٹ کا پلندہ

,

   

مرکزی بجٹ پر کانگریس ،ترنمول کانگریس اور سماج وادی پارٹی کی تنقید

نئی دہلی۔ یکم ؍ فروری ( ایجنسیز ) کانگریس قائد راہول گاندھی نے مرکزی بجٹ 2026.27 پر تنقید کی ہے۔ انھوں نے ایکس پر پوسٹ میں کہا کہ بے روزگار نوجوان‘گرتی ہوئی مینوفیکچرنگ، سرمایہ کار سرمایہ نکال رہے ہیں، گھریلو بچتیں گر رہی ہیں۔کسان پریشانی میں، عالمی جھٹکے، سب کو نظر انداز کر دیا گیا۔راہول گاندھی نے کہاکہ یہ ایک ایسا بجٹ ہے جو اصلاح نہیں چاہتا، ہندوستان کے حقیقی بحرانوں سے انجان ہے۔کانگریس صدر ملکارجن کھرگے نے ایکس پر مرکزی حکومت کو نشانہ بنایا۔ انھوں نے لکھا کہ مودی سرکار کے پاس اب کوئی آئیڈیا نہیں بچا۔ بجٹ 2026 ہندوستان کے بہت سے معاشی، سماجی اور سیاسی چیلنجوں کا ایک بھی حل فراہم نہیں کرتا ہے۔وہیں کانگریس کے سینئر لیڈر جے رام رمیش نے کہا کہ کہ یہ (بجٹ 2026) مکمل طور پر بے وقعت اور پھیکا ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ، تقریر بھی غیر شفاف تھی کیونکہ اس میں اہم پروگراموں اور اسکیموں کیلئے بجٹ میں مختص کی جانے والی رقم کا کوئی اندازہ پیش نہیں کیا گیا۔ششی تھرور نے بجٹ پر اٹھائے سوال اور بجٹ کی کچھ باتوں پر ناراضگی کا اظہار کیا ۔ انھوں نے کہا کہ ہمیں بہت کم تفصیلات ملی ہیں۔ہم آل انڈیا انسٹی ٹیوٹ آف آیوروید کا انتظار کر رہے تھے۔ یہ کہاں ہے؟ ہم یہ کیرالا میں چاہتے تھے۔ ہم نے ماہی گیروں اور ناریل کے نام سنے ‘ یہ کیرالا ہو سکتا ہے لیکن جب انہوں نے جہاز کی مرمت کی بات کی تو وارانسی اور پٹنہ کے ناموں کا ذکر کیا لیکن کیرالہ کا نہیں۔ یہ حیران کن ہے۔یونین بجٹ پر چیف منسٹر مغربی بنگال ٰ ممتا بنرجی نے کہا کہ نرملا سیتا رمن نے تین راہداریوں کے بارے میں جو کہا وہ بالکل جھوٹ کا پلندہ ہے۔ یہ پہلے سے ہی عمل میں ہیں اور ہم نے وہاں کام شروع کر دیا ہے۔ انہوں نے بنگال کو ایک پیسہ بھی نہیں دیا ہے۔ صرف ایک ٹیکس ہے، جی ایس ٹی۔ وہ ہمارے پیسے چھین رہے ہیں اور بڑی بڑی باتیں کہہ رہے ہیں کہ وہ ہمیں پیسے دے رہے ہیں۔ یہ ہمارا پیسہ ہے، اس لیے ان کے پاس حکومت چلانے اور ملک کو اس طرح ختم کرنے کا کوئی اخلاقی اختیار نہیں ہے۔ممتا بنرجی نے مرکزی حکومت پر ملک کے معاشی ڈھانچے، آئینی ڈھانچے اور آزاد ایجنسیوں تباہ کرنے کا الزام لگایا۔ مرکزی بجٹ پر، ٹی ایم سی کے رکن پارلیمنٹ شتروگھن سنہا نے اپنے الگ انداز میں تبصرہ کیا۔ انھوں نے کہاکہ یہ ‘فینکو اور لپیٹو’ بجٹ ہے۔ یہ بجٹ وکست بھارت کیلئے نہیں ہے۔ اس میں روزگار یا ملک کے موجودہ قرضوں پر توجہ نہیں دی گئی ہے۔
مرکزی حکومت کے پاس بہت سی ریاستوں کی رقم واجب الادا ہے۔ کسانوں کی فلاح و بہبود کے لیے کون سی اسکیم لائی گئی؟ یہ بجٹ درجہ بندی کے لائق نہیں ہے۔ سماج وادی پارٹی صدر اکھلیش یادو نے کہا کہ یہ بجٹ غریبوں اور گاؤں میں رہنے والوں کی سمجھ سے بالاتر ہے۔ اس بجٹ میں کوئی نوکری یا روزگار نہیں دیا گیا ہے۔ بی جے پی کا بجٹ ملک کے صرف 5 فیصد لوگوں کیلئے ہے۔