بحری گزرگاہوں کا دہشت گردی کیلئے استعمال تشویشناک: مودی

,

   

دنیا بھر کے لئے نیا چیلنج ۔ مسئلہ سے نمٹنے کیلئے پانچ نکاتی اُصول تجویز ۔ سلامتی کونسل میٹنگ سے خطاب

نئی دہلی: وزیر اعظم نریندر مودی کی صدارت میں اقوام متحدہ سلامتی کونسل (یو این ایس سی) کی میٹنگ منعقد ہوئی ۔ اس میٹنگ میں امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن بھی شریک ہوئے ۔ بلنکن نے اس میٹنگ میں آن لائین شرکت کی ۔ مودی نے ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعہ ’سمندری تحفظ کی توسیع: بین الاقوامی تعاون کا معاملہ‘ کے عنوان پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اعلیٰ سطح پر منعقدہ مباحث کی صدارت کی۔میٹنگ میں وزیر اعظم مودی نے کہا کہ سمندر ہماری مشترکہ وراثت ہیں اور سمندری راستے بین الاقوامی تجارت کی لائف لائن ہیں۔ یہ مہا ساگر ہمارے سیارے کے مستقبل کے لئے بہت اہمیت رکھتے ہیں۔ ہماری یہ مشترکہ وراثت کئی طرح کے چیلنجز کا سامنا کر رہی ہے۔ دہشت گردی کو بڑھاوا دینے کے لئے سمندری گزرگاہوں کا استعمال کیا جا رہا ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے علاقے میں سمندری تحفظ کے معاملے میں ایک جامع فریم ورک تیار ہو۔ یہ فریم ورک خطہ میں سب کیلئے سلامتی و ترقی کے بنیادی مقصد پر مبنی ہو۔ یہ نظریہ محفوظ اور مستحکم سمندری شاہراہ کو یقینی بنانے کے لئے پابند عہد ہے۔ ہمیں سمندری تجارت کی رکاوٹوں کو ختم کرنا ہوگا۔ ہماری خوشحالی سمندری تجارت پر منحصر ہے، اس میں کسی بھی طرح کی رکاوٹ ہمارے مستقبل کے لئے چیلنجز کھڑی کرسکتی ہے۔سلامتی کونسل میں یہ بحث ایسے وقت منعقد ہوئی جبکہ ہندوستانی بحریہ اگست کی شروعات میں دو ماہ سے زیادہ وقت کے لئے بحیرہ جنوبی چین ، مغربی بحر الکاہل اور جنوب مشرقی ایشیا کے سمندری حدود میں فرنٹ لائن جنگی جہازوں پر مشتمل ایک بحری ٹاسک گروپ تعینات کر رہا ہے، جس کا مقصد سیاسی طور پر اہم سمندری گزرگاہوں میں اپنے موقف کو مضبوط کرنا ہے۔سمندری تحفظ کیلئے وزیر اعظم مودی نے میٹنگ میں 5 بنیادی اُصولوں کا ذکر بھی کیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر سمندری گزرگاہوںکو محفوظ رکھنا ہے تو پانچ اُصولوں پر عمل کرنا ہوگا۔ یعنی ہمیں سمندری تجارت میں پیدا ہونے والی رکاوٹوں کو ہٹانا ہوگا، جس سے قانونی تجارت کو منظم کیا جاسکے۔سمندری تنازعہ کی یکسوئی پُرامن اور بین الاقوامی ضوابط کے مطابق کی جانی چاہئے ۔ ذمہ دارانہ سمندری رابطوں کو فروغ دینا چاہئے ۔ غیرسرکاری عناصراور قدرتی آفات کے ذریعہ پیدا کئے گئے سمندری چیلنجز کا سامنا ایک ساتھ مل کر کیا جانا چاہئے۔ ہمیں سمندری ماحولیات اور وسائل کا تحفظ کرنا ہوگا۔