بحر الکاہل میں ’ ایلنینو سرگرم ‘ ہندوستان کیلئے 2024 گرم ترین سال ہوسکتا ہے

   

امریکی ادارہ کی تحقیق۔ مانسون میں تاخیر اور بارش میں کمی بھی ہوسکتی ہے ۔ شمالی ہند پر زیادہ منفی اثرات ممکن

حیدرآباد۔11۔جون(سیاست نیوز) امریکی ادارہ NOAA کے ماہرین جو بحری ماحولیاتی تبدیلی پرتحقیق کرتے ہیں ان کے مطابق بحرالکاہل میں ایلنینوElNino فعال ہوچکا ہے اور ایلنینو کے متحرک ہونے سے ہندستان کیلئے 2024 گرم ترین سال ثابت ہوسکتا ہے ۔ اس کے فعال ہونے کے منفی نتائج کے طور پر مانسون میں تاخیر اور بارشوں میں کمی کا خدشہ ہے۔ ماہرین کے مطابق ایلنینو کے فعال ہونے سے موسمی تغیرات کے کئی واقعات رونما ہوتے ہیں ۔ کہا جار ہاہے کہ 2024 میں ایلنینو کے متحرک ہونے سے سمندری سطح کے درجہ حرارت میں 4 تا 5 ڈگری کا اضافہ ہوسکتا ہے اور عموما گرمی میں اضافہ کے سبب دنیا کے مختلف موسموں میں تغیرات ہونے لگتے ہیں جو کہ بارش‘ گرما اور سرما پر اثرانداز ہوتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق ایلنینو سرگرم ہے اور بحرالکاہل میں اس کا سرگرم رہنا ہندستان میں بارشوں کے کم ہونے کا سبب بن سکتا ہے ۔ امریکی ماہرین کی توثیق کے بعد کہا جا رہاہے کہ اس کے اثرات آئندہ سال 2024کے موسم سرما تک پائے جائیں گے۔ امریکی کی ماہرین کی توثیق کے ساتھ ہی ہندستان کے علاوہ دیگر مشرقی و جنوبی ممالک کے ماہرین نے اس کے اثرات کا جائزہ لینا شروع کردیا ہے اور ہندستانی محکمہ موسمیات کے مطابق ایلنینو کا جون ‘ جولائی اور اگسٹ میں بارشوں پر منفی اثر اور بارشوں کے کم ہونے کے 70 فیصد سے زائد امکانات ہیں کیونکہ 1997 میں ایلنینو کے سبب جو صورتحال پیدا ہوئی تھی اسی طرح کے حالات کا ہندستان کو سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔ ماہرین کی پیش قیاسی کو اگر درست تصور کیا جائے تو گذشتہ سال سے 84فیصد کم بارش کے خدشات ہیں۔ کہا جار ہاہے کہ آئندہ سال ہندستان کو گرم ترین موسم کا سامنا ہوگا ۔ ایلنینو کی سرگرمی جو صورتحال پیدا ہوتی ہے اس پر سائنسدانوں کا کہناہے کہ اس کے اثرات دنیا بھر پر مرتب ہوتے ہیں اور دنیا کے کئی حصوں میں خوب بارشیں ہوتی ہیں تو ایک حصہ مکمل خشک سالی کا شکار رہتا ہے اسی طرح بعض علاقوں میں طوفان بادوباراں تو کئی مقامات پر موسم گرم ہوجاتا ہے ۔ ماہرین کا کہناہے کہ شمالی ہندکی ریاستوں راجستھان‘ مدھیہ پردیش‘ ہریانہ ‘ اترپردیش‘ پنجاب کے علاوہ دیگر علاقوں پر کم بارشوں کے منفی اثرات کا خدشہ ہے کیونکہ ان علاقوں میں مانسون کے دوسرے مرحلہ جولائی تا ستمبر بارشوں کا سلسلہ ہوا کرتا تھا لیکن جاریہ سال یہ بارشیں نہ ہونے کے سبب زراعت کافی متاثر ہوگی اور پیداوار میں گراوٹ کا خدشہ ہے۔ فی الحال جس شدت کی گرمی ہے اسی طرح ہندوپاک میں آئندہ موسم سرما میں سردی بھی شدت کی ہوسکتی ہے ۔ موسمی تغیرات انسانی زندگی پر ہر اعتبار سے اثرانداز ہوتے ہیں ۔ اللہ رب العزت قادر مطلق ہے اورکسی بھی طرح کے حالات میں اللہ کے بندے اگر اس سے رحمت طلب کرتے ہیں تو انہیں مشکلات سے راحت ملتی ہے۔ موسمی تغیرات کے مسائل سے راحت اور نجات کیلئے آئمہ اکرام ‘ خطیب حضرات سے اپیل ہے کہ وہ مانسون کی آمد اور انسانیت کے حق میں موسم بہتر ہواس کیلئے خصوصی دعاؤوں کا اہتمام کریں ۔ محکمہ موسمیات کی پیش قیاسی اور آئندہ ہفتہ گرم ہواؤں کی ایک اورلہر کے متعلق زرد انتباہ جاری کرکے عوام سے خواہش کی ہے کہ وہ آئندہ چند یوم بلا ضرورت گھروں سے نہ نکلیں ۔ ضعیف حضرات اور بچوں کودھوپ کے اوقات میں گھروں سے نکلنے سے اجتناب کرنے کا مشورہ دیا جا رہاہے اور کہا جارہاہے کہ وہ شدید دھوپ میں پانی کا زیادہ استعمال کریں۔