سابق حکومت کے 8 لاکھ کروڑ کے قرض سے ریاست مقروض، یلاریڈی میں بھوبھارتی شعور بیداری جلسہ عام سے خطاب
حیدرآباد۔/29 اپریل، ( سیاست نیوز) وزیر مال پی سرینواس ریڈی نے سوال کیا کہ بی آر ایس سربراہ کے سی آر کو آخر کس بات کا دکھ ہے، اقتدار سے محرومی یا پھر بدعنوانیوں کے بے نقاب ہونے سے شاید وہ دکھ میں ہیں۔ سرینواس ریڈی نے آج کاماریڈی اور ورنگل اضلاع میں بھوبھارتی شعور بیداری پروگراموں میں حصہ لیا۔ انہوں نے کانگریس پر کے سی آر کی تنقیدوں کو مسترد کردیا اور کہا کہ بدعنوانیوں سے عاجز آکر تلنگانہ عوام نے بی آر ایس کو اقتدار سے محروم کردیا۔ انہوں نے کہا کہ عوام نے خوشحالی اور فلاح و بہبودکی اُمید کے ساتھ بی آر ایس کو دو مرتبہ اقتدار دیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ کے سی آر بار بار کہہ رہے ہیں کہ انہیں موجودہ حالات سے دکھ ہورہا ہے، آخر دکھ کی کیا وجہ ہے اقتدار سے محرومی کا دکھ یا پھر بے قاعدگیوں کے بے نقاب ہونے کا دکھ کے سی آر کو ستارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس حکومت نے دیڑھ سال کے عرصہ میں جو فلاحی کام انجام دیئے ہیں وہ کے سی آر کو برداشت نہیں ہورہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کے سی آر نے 10 برسوں میں عوام کیلئے جو کچھ نہیں کیا وہ دیڑھ سال میں ریونت ریڈی حکومت نے کردکھایا۔ بی آر ایس کی حکومت نے 8.1 لاکھ کروڑ کا قرض حاصل کرتے ہوئے تلنگانہ کو مقروض بنادیا تھا۔ انہوں نے دس سال میں ڈبل بیڈ روم مکانات کی منظوری کے بارے میں کے سی آر سے سوال کیا اور کہا کہ عوام سے کئے گئے وعدوں کی دس برسوں میں تکمیل نہیں کی گئی۔ کانگریس حکومت نے اندراماں ہاوزنگ اسکیم پر عمل آوری کا آغاز کیا ہے اور آئندہ چار برسوں میں 20 لاکھ مکانات اسکیم کے تحت منظور کئے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس حکومت نے تمام اہل انتخابی وعدوں کی تکمیل کی ہے۔ یلاریڈی اسمبلی حلقہ کے لنگم پیٹ منڈل میں بھوبھارتی شعور بیداری پروگرام منعقد کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ بی آر ایس نے اسمبلی میں بھوبھارتی قانون کی منظوری میں رکاوٹ پیدا کرنے کی کوشش کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ نئے قانون کے تحت جنگلاتی اراضی کے تنازعات کی یکسوئی کی جائے گی۔ وزیر مال نے پیش قیاسی کی ہے کہ تلنگانہ میں آئندہ بھی کانگریس حکومت برسراقتدار آئے گی اور بی آر ایس کیلئے کوئی جگہ نہیں ہے۔ عوام بی آر ایس پر مزید بھروسہ کرنے کیلئے تیار نہیں ہیں۔ رکن پارلیمنٹ سریش شیٹکر اور رکن اسمبلی مدن موہن راؤ نے بھی مخاطب کیا۔1