ریاست کو آبی قلت سے محفوظ بنایا جائیگا، محکمہ مال میں نئے قوانین کا تیقن، قلعہ گولکنڈہ پر یوم آزادی تقریب سے چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ کا خطاب
حیدرآباد ۔15اگسٹ(سیاست نیوز) چیف منسٹر مسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے تاریخی قلعہ گولکنڈہ پر یوم آزادی تقاریب میں حصہ لیتے ہوئے پرچم کشائی انجام دی اور پریڈ کی سلامی لی۔ چیف منسٹر نے اس موقع پر خطاب کے دوران حکومت کی جانب سے مجوزہ محکمہ مال کے قوانین کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ اب تک جو محکمہ مال کے قوانین تھے ان کے سبب ریاست کے عوام و کسانوں کو نقصانات کا سامنا کرنا پڑا اور حکومت آئندہ اسمبلی اجلاس کے دوران محکمہ مال کے نئے قوانین کو پیش کرکے ان کے نفاذ کو یقینی بنائیگی۔ چیف منسٹر نے کہا کہ حکومت رشوت اور بدعنوانیوں سے پاک محکمہ مال کی تشکیل کیلئے کوشاں ہے اور اس میں کامیابی حاصل کی جائیگی۔انہو ںنے اقوام متحدہ کی جانب سے تلنگانہ میں شروع کی گئی کسانوں کیلئے انشورنس کی اسکیم کی سراہنا کو ریاست کیلئے اعزاز قرار دیا اور کہا کہ حکومت نے کالیشورم پراجکٹ کی ریکارڈ مدت میں تکمیل کے ذریعہ ریاست کو درپیش آبی قلت سے محفوظ بنانے میں کوئی کسر باقی نہیں رکھی۔چیف منسٹر نے کہا کہ حکومت اسی جذبہ و لگن کے ساتھ مستقبل میں بھی عوامی مفادات کے تحفظ اور فلاح و بہبود کیلئے خدمات انجام دیتی رہے گی ۔ چندر شیکھر راؤ نے بتایا کہ حکومت نے دیہی علاقوں کی صفائی اور دیہی علاقوں میں بہترین نظم و نسق کو یقینی بنانے 60روزہ منصوبہ کا اعلان کیا ہے اور اس اعلان کے تحت گرام پنچایتوں اور پنچایتوں کو راست بجٹ فراہم کرکے دیہی علاقو ںکی ترقی کے اقدامات کئے جائیںگے۔ انہوںنے محکمہ مال قوانین پر کہا کہ حکومت کے اس فیصلہ سے کئی ملازمین میں ناراضگی ہے اور ملازمین کی تنظیموں کی جانب سے اس کی مخالفت بھی کی جا چکی ہے
لیکن حکومت اپنے موقف سے منحرف نہیں ہوگی بلکہ آئندہ اسمبلی اجلاس کے دوران اس قانون کو پیش کیا جائیگا جو عوام اور کسانوں کے مفادات کا تحفظ کرے گا۔ چیف منسٹر نے کہا کہ ریاست میں کسانوں کی ترقی کیلئے جو زرعی پالیسی تیار کی گئی ہے اس کو ملک بھر میں مثالی قرار دیا جا رہا ہے اور کئی ریاستوں کے علاوہ مرکزی حکومت سے اس پالیسی کو اختیار کیاگیا جو کہ تلنگانہ کیلئے باعث فخر ہے۔انہو ںنے بتایا کہ تلنگانہ میں محکمہ پنچایت راج میں موجود مخلوعہ جائیدادو ںکو پر کرنے احکامات جاری کردیئے گئے ہیں تاکہ دیہی علاقوں کی ترقی کے سلسلہ میں پنچ سالہ منصوبہ کو عملی جامہ پہنانے میں کوئی دشواری نہ ہو۔ چندر شیکھر راؤ نے ریاست کی شرح ترقیات کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ ملک بھر میں تلنگانہ سب سے زیادہ تیز رفتار اور بہترین ترقی کرنے والی ریاستوں میں سرفہرست ہے اور ریاست کی شرح ترقی 14.84 ریکارڈ کی گئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ تلنگانہ میں گذشتہ 5برسوں کے دوران مالیہ تیزی سے فروغ حاصل کرچکا ہے اور ریاست کا خزانہ اب 8.66لاکھ کروڑ سے تجاوز کرچکا ہے جبکہ 5سال قبل ریاست کے خزانہ میں 4لاکھ کروڑ تھے لیکن اندرون 5برس ریاست کی معیشت میں دوگنا اضافہ ہوا ہے جو حکومت کی بہترین پالیسیوں کا نتیجہ ہے۔ چیف منسٹر نے کہا کہ حکومت کی جانب سے کالیشورم پراجکٹ کی تکمیل کے سبب ریاست میں گوداوری اور کرشنا ندی سے 1000 ٹی ایم سی اضافی پانی حاصل ہوگا اور حکومت کے اقدامات کے سبب فی الحال زرعی مقاصد کی تکمیل کے لئے 175ٹی ایم سی پانی موجود ہے جو کھمم اور دیگر علاقوں کو آئندہ خریف سے قبل سربراہ کیا جائے گا۔ یوم آزادی تقریب میں ارکان پارلیمان‘ اسمبلی ‘ کونسل ‘ صدورنشین کے علاوہ اعلی عہدیدار شامل تھے۔ چیف منسٹر کی آمد پر چیف سیکریٹری مسٹر ایس کے جوشی‘ مشیر اعلی برائے حکومت مسٹر راجیو شرما ‘ ڈائرکٹر جنرل پولیس مسٹر ایم مہیندر ریڈی کے علاوہ کمشنر مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآبادمسٹر دانا کشور ‘ مسٹر انجنی کمارکمشنر پولیس حیدرآباد‘ محمد مشرف علی آئی اے ایس اوردیگر موجود تھے۔ تقاریب میں شریک اہم شخصیات میںمسٹر اینڈریو مائیکلسٹر ڈپٹی ہائی کمشنر برطانیہ ‘مسٹر کے کیشوراؤ‘ مسٹر سنتوش کمار‘ مسٹر بی سمن‘ مسٹر این نرسمہا ریڈی ‘ جناب الحاج محمد سلیم صدرنشین وقف بورڈ ‘ جناب محمد قمر الدین صدرنشین اقلیتی کمیشن ‘جناب محمد مسیح اللہ خان صدرنشین حج کمیٹی ‘ جناب سید اکبر حسین صدرنشین اقلیتی مالیاتی کارپوریشن‘جناب محمد یوسف زاہد صدرنشین تلنگانہ کھادی بورڈ‘ مئیر جی ایچ ایم سی مسٹر بی رام موہن‘ کے علاوہ دیگر موجود تھے۔ چندر شیکھر راؤ نے حکومت کی جانب سے مختلف طبقات کی ترقی کیلئے تیار کردہ منصوبوں کا تذکرہ کیا اور حکومت کی جانب سے ریاست کے نظم ونسق کو بہتر بنانے کے اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کی جانب سے تلنگانہ کے اضلاع میں اضافہ کے ساتھ گرام پنچایتوں میں اضافہ کرکے عوام کو حکومت اور انتظامیہ سے قریب کرنے کی کاروائی کی گئی جس کے نتیجہ میں ریاست کے انتظامی امور میں بہتری رونما ہوئی ہے۔انہو ںنے ریاست کے ریوینیوڈیویژنس ‘ میونسپل کارپوریشن اور دیگر ادارہ جات میں اضافہ کی بھی تفصیلات پیش کی ۔چیف منسٹر نے حکومت کی جانب سے روشناس نئے بلدی قوانین کے علاوہ نئے پنچایت راج قوانین کا تذکرہ کیا اور کہا کہ ان قوانین کو نافذ کرنے کا مقصد بھی ریاست میں بدعنوانیوں سے پاک حکمرانی کو یقینی بنانے کے علاوہ عوامی اختیارات میں اضافہ کرنا ہے۔ یوم آزادی تقاریب کے دوران قلعہ گولکنڈہ کی فصیلوں پر ریاست کے مختلف طبقات کی تہذیبی و ثقافتی جھانکیوں کو پیش کیا گیا جس میں قبائیلی رقص‘ بتکماں اور بونال تہوار کی جھانکیاں شامل تھیں۔ یوم آزادی تقاریب کے سلسلہ میں قلعہ کی سمت پہنچنے والی تمام سڑکوں پر وسیع سیکیوریٹی انتظامات کئے گئے اور جگہ جگہ راستوں کی نشاندہی کے بورڈ آویزاں تھے ۔ پارکنگ کیلئے دشواریاں نہ پیش آئیں اس کیلئے خصوصی انتظامات کو یقینی بنایا گیا ۔گولکنڈہ پہنچنے والے راستوں پر ایمبولنس کے علاوہ فائر بریگیڈ س کی تعیناتی عمل میں لائی گئی تھی۔ ٹریفک پولیس کی جانب سے خصوصی انتظامات کئے گئے تھے۔
