بدلتے وقتوں کا تقاضہ ، سیاسی جماعتوں کی تشہیر کیلئے سو شل میڈیا پر زیادہ توجہ

   

الزام ، جوابی الزام ۔ دعوے ، جوابی دعوے اور پوسٹر وکارٹون بازی عروج پر ۔ ڈیجیٹل مہم پر خطیر رقومات کا خرچ

حیدرآباد ۔24 اکٹوبر ( سیاست نیوز) سیاسی جماعتیں بدلتے وقت اور رجحانات سے مطابق خود کو ڈھالنے کی ہر ممکن کوشش کرتی ہیں ۔ بدلتے وقتوں سے خود کو ہم آہنگ کرنے ایک دوسرے پر سبقت لے جاتی ہے ۔ اب جب کہ تلنگانہ میں اسمبلی انتخابات کا اعلان ہوچکا ہے سیاسی اور انتخابی سرگرمیوں میں شدت پیدا ہوگئی ہے ۔ سیاسی جماعتیں اپنے امیدواروں کی کامیابی کو یقینی بنانے میں کوئی کسر باقی رکھنا نہیں چاہتی ۔ انتخابی مہم اور رائے دہندوں پر اثر انداز ہونے کیلئے ٹکنالوجی اور سوشل میڈیا کا زبردست استعمال کیا جانے لگا ہے ۔تلنگانہ میں تین بڑی سیاسی جماعتوں بی آر ایس ، کانگریس اور بی جے پی نے جو انتخابی لڑائی کا منصوبہ تیار کیا ہے وہ صرف گھر گھر پہنچ کر مہم چلانے تک محدود نہیں ہے بلکہ اس کو سوشل میڈیا تک وسعت حاصل ہوگئی ہے ۔ سیاسی جماعتوں نے اپنی آن لائن لڑائی کو تقویت دیتے ہوئے ایک دوسرے پر تنقیدیں شروع کی ہیں اور ایک دوسرے کے دعوؤں کو چیلنج بھی کیا جارہا ہے ۔ ہر جماعت کے کٹر حامی اور ہمدرد سوشل میڈیا کی اس لڑائی کی کمان سنبھالے ہوئے ہیں ۔ مختلف سوشل میڈیا پلیٹ فارمس پر مختلف گروپس کو ذمہ داریاں دی گئی ہیں ۔ اس کے علاوہ مواد تیار کرنے والے گروپس کی خدمات حاصل کی جارہی ہیں ۔ سوشل میڈیا پر پوسٹرس ، کارٹونس اور ویڈیوز پیش کرنے کے علاوہ مضامین بھی شائع کئے جارہے ہیں ۔ تینوں ہی سیاسی جماعتوں کا یہ اعتراف ہے کہ انہوں نے نچلی سطح سے ریاستی سطح تک اپنی سوشل میڈیا ٹیمس کو متحرک کردیا ہے ۔ سیاسی ماہرین اور مواد تیار کرنے والوں کی بھی خدمات لی جارہی ہے ۔ حال ہی میں بی جے پی نے کانگریس کے نام کے ساتھ ’C‘ کا شاطرانہ انداز میں استعمال کرتے ہوئے چیف منسٹر کے سی آر کو نشانہ بنایا تھا ۔ اس معاملہ میں خود کو آگے رکھنے کی کوشش کرتے ہوئے بی آر ایس نے بھی ایک کارٹون جاری کیا تھا جس میں کانگریس لیڈر پرینکا گاندھی کی جانب سے موروثی سیاست پر تبصرے کا مضحکہ اڑایا گیا تھا ۔ کارٹون میں دکھایا گیا کہ سونیا گاندھی اپنے پڑدادا اور دادی کے پوسٹرس کے سامنے بیٹھ کر یہ بیان دے رہی ہیں ۔ واضح رہے کہ حال میں یوٹیوب پر ایک ویڈیو سے بھی ہنگامہ کھڑا ہوگیا تھا جو کانگریس قائدین راہول گاندھی اور پرینکا گاندھی کے عوامی جلسہ کا تھا ۔اس ویڈیو میں حال میں خودکشی کرنے والی ورنگل کی طالبہ پروالیکا کا تذکرہ تھا ۔ یوٹیوب نے اس ویڈیو پر انتباہ بھی جاری کیا تھا ۔ بی آر ایس کے سوشل میڈیا کنوینر ایم کرشانک کا کہنا ہے کہ اُن کی ساری توجہ حکومت کی کامیابیوں اور ترقیاتی ایجنڈہ کو آگے بڑھانا ہے ۔ اُن کا کہنا تھا کہ اُن کی مہم میں کانگریس اقتدار والی ریاستوں اور تلنگانہ کی ترقی کا تقابل کرنا بھی شامل ہے ۔ اُن کا کہنا تھا کہ کانگریس کے دعوؤں میں کھوکھلاپن ہے جس کو بی آر ایس کی مہم کے ذریعہ عوام میں لایا جائے گا ۔ انہوں نے کہا کہ بی آر ایس مثبت سوچ کے ساتھ اپنی سوشل میڈیا مہم چلا رہی ہے ۔ ساتھ ہی کانگریس اور بی جے پی کو نشانہ بنانے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے بھی نہیں دے رہی ہے ۔اس کیلئے گیتوں ، ویڈیوز ، ڈاٹا ،تصاویر اور دیگر مواد کا استعمال بھی کیا جارہا ہے ۔ کہا جارہا ہے کہ سوشل اور ڈیجیٹل میڈیا پر تشہیر کو فروغ دیتے ہوئے سیاسی جماعتیں خطیر رقومات بھی خرچ کررہی ہے ۔ سوشل میڈیا پر تشہیر میں مہارت رکھنے والوں کو ہر ممکن سہولیات اور آسائشات بھی فراہم کی جارہی ہے انہیں بڑی ہوٹلس میں قیام کرواتے ہوئے لاکھوں روپئے فیس اور معاوضہ بھی ادا کرنے کی اطلاعات ہے ۔ سوشل میڈیا ٹیمس کی جانب سے سیاسی جماعتوں اور امیدواروں کے یومیہ پروگرامس اور شیڈول کو بھی عوام تک پہنچانے میں اہم رول ادا کیا جارہا ہے ۔ تشہیر کیلئے ان جماعتوں اور اُن کی ٹیموں نے واٹس ایپ پر گروپس بنائے ہیں ۔ اس کے علاوہ دیگر پلیٹ فارمس کا بھی بھرپور استعمال کیا جارہا ہے ۔ سیاسی جماعتوں کے رجحان کو دیکھتے ہوئے ڈیجیٹل تشہیر میں مہارت رکھنے والے ادارہ بھی سرگرم ہوگئے ہیں اور وہ اپنی خدمات کے عوض لاکھوں روپئے معاوضہ وصول کررہے ہیں ۔