بردہ فروشی کے واقعات میں تشویشناک اضافہ

   

مثالی اقدامات اور سخت اقدامات کے باوجود معاملات ، قومی سطح پر تلنگانہ دوسرے نمبر پر
حیدرآباد ۔ 15 ۔ ستمبر : ( سیاست نیوز ) : ریاست تلنگانہ میں بردہ فروشی کے واقعات میں تشویش ناک اضافہ ریکارڈ کیا جارہا ہے ۔ مثالی اقدامات اور سخت اقدامات کے دعوؤں کے باوجود ریاست تلنگانہ بردہ فروشی کے معاملات میں ملک کی دوسری ریاست بن گئی ہے ۔ نیشنل کرائم ریکارڈ بیورو کے مطابق ہیومن ٹرائفکنگ میں قومی سطح پر ریاست تلنگانہ کا دوسرا مقام ہے ۔ ملک بھر میں ہیومن ٹرائفکنگ کے 900 معاملات درج کئے گئے جن میں سب سے زیادہ 154 کیس ریاست مہاراشٹرا میں درج ہوئے جو سرفہرست رہا ۔ جب کہ ریاست تلنگانہ میں جو دوسرے مقام پر رہا 104 کیس درج کئے گئے ۔ نیشنل کرائم ریکارڈ بیورو کے مطابق ریاست تلنگانہ میں بردہ فروشی کے علاوہ سائبر جرائم میں بھی اضافہ ہوتا جارہا ہے ۔ سال 2018 سے تقابل کرنے پر سال 2020 میں 4 گنا اضافہ ہوا ہے ۔ سال 2018 میں سائبر جرائم 1205 ریکارڈ کئے گئے جب کہ سال 2019 میں 2691 سال 2020 میں 5024 تک اضافہ ہوا ہے ۔ این سی آر بی کے مطابق سال 2020 میں قومی سطح پر درج مقدمات کا جائزہ لینے سے پتہ چلتا ہے کہ تلنگانہ کو قومی سطح پر چوتھے مقام پر پہونچی ہے ۔ اترپردیش میں سب سے زیادہ 11097 مقدمات درج کئے گئے ۔ کرناٹک ، مہاراشٹرا اس زمرے میں تلنگانہ سے آگے ہیں ۔ شوہر اور سسرالی رشتہ داروں کی جانب سے ہراسانی کے مقدمات میں تلنگانہ 5 ویں مقام پر پائی جاتی ہے ۔ سال طرح کے مظالم کی اکثریت مغربی بنگال میں پائی گئی جہاں 19962 مقدمات درج ہوئے ۔ اترپردیش ، راجستھان اور آسام کے بعد تلنگانہ کا مقام پایا جاتا ہے ۔ تلنگانہ میں 7453 مقدمات درج کئے گئے کمسن بچوں پر مظالم کے ( پوسکو ) معاملات میں تلنگانہ ریاست 7 ویں مقام پر پائی جاتی ہے اس طرح دلتوں پر مظالم میں بھی 7 ویں مقام پر پائی جاتی ہے ۔ تلنگانہ میں 1959 کیس درج ہوئے ۔ ایس ٹی پر مظالم کے 573 مقدمات درج کئے گئے ۔ معاشی جرائم میں تلنگانہ چوتھے مقام پر رہا ۔ جہاں 12,985 مقدمات درج کئے گئے ۔۔ A