برطانوی ایم پی کا ویزا ،مخالف ہند سرگرمیوں کے سبب منسوخ ہوا

,

   

ڈیبی ابراہمس کو ای بزنس ویزا جاری کیا گیا تھا ۔ ایسے ویزا کے تحت فیملی و فرینڈس سے ملاقات کی اجازت نہیں

نئی دہلی ۔ 18 فبروری ۔(سیاست ڈاٹ کام) جموں و کشمیر کے خصوصی موقف سے دستبرداری سے متعلق ہندوستان کے اقدام کی ناقد ایک برطانوی ایم پی کو ملک میں داخلے کی اجازت نہ دیئے جانے کے ایک روز بعد حکومت ہند کے ذرائع نے آج کہاکہ برطانوی رُکن پارلیمنٹ کا ویزا اس لئے منسوخ کیا گیا کیونکہ وہ مخالف ہندوستان سرگرمیوں میں ملوث ہیں۔ ڈیبی ابراہمس جو کشمیر کے بارے میں برطانوی پارلیمنٹری گروپ کی صدرنشین ہیں ، اُن کو گزشتہ روز نئی دہلی ایرپورٹ پر اُن کی آمد کے فوری بعد اُنھیں واپس بھیج دیا گیا۔ ذرائع نے کہاکہ کسی کو ویزا عطا کرنا یا مسترد کردینا کوئی بھی ملک کا مقتدراعلیٰ اختیار ہوتا ہے ۔ ڈیبی کو 7 اکٹوبر 2019 ء کو ای بزنس ویزا جاری کیا گیا تھا جو بزنس میٹنگس میں شرکت کے سلسلے میں 5 اکٹوبر 2020 ء تک کارکرد تھا۔ تاہم 14 فبروری 2020 ء کو ڈیبی کا ویزا منسوخ کرنا پڑا جس کا سبب اُن کی ایسی سرگرمیاں ہیں جو ہندوستان کے قومی مفاد کے خلاف جاتی ہیں۔ ای بزنس ویزا کو مسترد کردینے کے فیصلے سے ڈیبی کو 14 فبروری کو مطلع کیا گیا ۔ ذرائع نے کہاکہ ڈیبی نے جس وقت ہندوستان کا سفر شروع کیا اُن کے پاس کوئی کارکرد ویزا نہیں تھا اور اس لئے اُن سے واپس ہوجانے کیلئے کہا گیا۔ ذرائع کے مطابق ایرپورٹ پر برطانوی شہریوں کے لئے آمد پر ویزا کی گنجائش نہیں ہے ۔ قواعد و ضوابط کے مطابق پہلے سے جاری کردہ ای بزنس ویزا تجارتی اجلاسوں کے سلسلے میں ہوتے ہیں ، جن کو فیملی اور فرینڈس سے ملاقاتوں اور اِدھر اُدھر گھومنے کے لئے استعمال نہیں کیا جاسکتا ۔ لیبر پارٹی کی ایم پی نے دعویٰ کیا تھا کہ اُن کے پاس دُرست ویزا ہے اور وہ انڈیا کو فیملی اور فرینڈس سے ملاقات کیلئے جارہی ہیں۔ ڈیبی اُن ایم پیز کے گروپ میں شامل تھیں جنھوں نے گزشتہ سال اگسٹ میں آرٹیکل 370 کے تحت جموں و کشمیر کے خصوصی موقف کی تنسیخ کے بعد باقاعدہ مکتوبات جاری کرتے ہوئے مذمت کی تھی ۔ ڈیبی نے دوشنبہ کو جب اُنھیں دہلی کے ایرپورٹ سے واپسی کے لئے مجبور کیا گیا ، اُنھیں ہتک محسوس ہوئی جس کا انھوں نے اظہار کیا۔جب وہ واپس آئیں تو عہدیدار کا رویہ جارحانہ تھا اور اس نے بدتمیزی کا مظاہرہ بھی کیا اور ڈیپورٹ سل میں بٹھادیا گیا اور کسی کو ویزا کی منسوخی کی وجہ نہیں معلوم تھی ۔