سالِ نو اور دیگر تقاریب میں شرکت، کئی افراد کی کورنٹائن کیلئے ہاسپٹل منتقلی
حیدرآباد: سالِ نو کی تقاریب میں کورونا قواعد کی خلاف ورزی کے واقعات منظر عام پر آئے ہیں۔ اس کے علاوہ محکمہ صحت کے عہدیداروں کو اس بات پر حیرت ہوئی کہ برطانیہ سے واپس ہونے والے ایسے مسافرین جنہیں کورونٹائن کیا گیا تھا، وہ قواعد کی خلاف ورزی کرتے ہوئے تقاریب میں شریک تھے۔ محکمہ صحت کے عہدیداروں نے بتایا کہ برطانیہ سے واپس ہونے والے 15 مسافرین جن کا کورونا ٹسٹ منفی تھا لیکن انہیں کورنٹائن رہنے کی ہدایت دی گئی تھی ، وہ سماجی تقاریب میں شریک ہوئے ۔ قواعد کے مطابق ایسے مسافرین کو 7 دن تک گھر میں کورنٹائن رہنا ہے۔ 15 میں سے 10 مسافرین کا تعلق حیدرآباد ، رنگا ریڈی اور ملکاجگیری اضلاع سے ہے ۔ تین مسافرین کے افراد خاندان برتھ ڈے پارٹیوں اور اپنے گھر پر تقاریب منعقد کرتے ہوئے پائے گئے ۔ ایسے مسافرین کی نگرانی کرنے والے طبی عملہ کے مطابق خلاف ورزی پر انہیں نیچر کیور ہاسپٹل منتقل کیا گیا ہے۔ عہدیداروں کا کہنا ہے کہ قواعد کے سلسلہ میں عوام کی لاپرواہی میں اضافہ ہوا ہے ۔ عوام میں کورونا کا خوف باقی نہیں رہا۔ برطانیہ سے واپس ہونے والے افراد پر کڑی نظر رکھی جارہی ہے تاکہ نئے وائرس کے پھیلاؤ کو روکا جاسکے ۔ کورنٹائن کے قواعد کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کھلے عام گھومنے پر کئی مسافرین کو ہاسپٹل میں جبراً کورنٹائن کیا گیا ۔ ایک طالب علم کو تلنگانہ انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسس منتقل کیا گیا جس نے شادی کی تقریب میں شرکت کی تھی۔ عہدیداروں کا کہنا ہے کہ کورونا کے پہلے مرحلہ میں بیرونی مسافرین کی جانب سے مکمل تعاون کیا گیا لیکن برطانیہ سے واپس ہونے والے افراد نے قواعد کی خلاف ورزیاں کی ہیں۔ نئے وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کیلئے تمام مسافرین کا ٹسٹ کیا گیا اور منفی پائے جانے کے باوجود انہیں 7 دن تک کورنٹائن کی ہدایت دی گئی۔ بتایا جاتا ہے کہ سالِ نو کی تقاریب میں بھی کورونا قواعد کی سنگین خلاف ورزیاں ہوئی ہیں۔
