برطانیہ میں حماس کے مالی اثاثے ، نصف ارب ڈالر اور معروف بینک میں کھاتے

   

لندن : دو روز قبل برطانوی وزارت داخلہ نے سرکاری طور پر فلسطینی تنظیم حماس پر مکمل طور سے پابندی عائد کرنے اور اس کا نام ملک میں کالعدم دہشت گرد تنظیموں کی فہرست میں شامل کرنے کا اعلان کیا تھا۔وزارت داخلہ کے مطابق اس فیصلے کے تحت حماس کے وہ ارکان جو تنظیم کی سپورٹ کا مطالبہ کرتے ہیں، انہیں 14 برس تک کی قید کی سزا ہو سکتی ہے۔سوال یہ ہے کہ حماس تنظیم برطانیہ میں سرمایہ کاری اور ملکیت کی مد میں کتنے مالی اثاثے رکھتی ہے جن کو اس فیصلے کے مطابق منجمد اور ضبط ہونے کا خطرہ ہے؟امریکی جریدے Forbes کے مطابق 2018ء تک حماس تنظیم کی سالانہ آمدنی 70 کروڑ ڈالر سے زیادہ رہی۔ سال 2020ء تک صرف برطانیہ میں حماس کی سرمایہ کاری کا حجم نصف ارب (50 کروڑ) ڈالر سے زیادہ تھا۔ برطانیہ میں حماس قائدین کے HSBC بینک میں ذاتی کھاتے موجود ہیں۔ ان میں سرفہرست انس التیریتی (اخوانی قائد) اور محمد کاظم صوالحہ (حماس کا قائد) ہیں۔