مسلمان مسجدوں میں جانے سے بھی خوفزدہ‘ کئی افراد گرفتار‘تین بچیوں کے قتل کا شاخسانہ
لندن : برطانیہ میں سفید فام نسل پرستوں کے ہاتھوں ایشیائی اور افریقی نژاد شہریوں پر حملوں کا سلسلہ نہیں تھم سکا ہے۔ برطانوی پولیس نے 250 سے زائد حملہ آوروں کو گرفتار کر لیا جبکہ 500 سے زائد افراد کی نشاندہی کر لی گئی ہے۔ انتہائی دائیں بازو کی جماعت کے ارکان کے حملوں سے برطانوی مسلمان خوف کا شکار ہیں۔ دائیں بازو سفید فام بلوائی ٹولیاں ایشیائی اور سیاہ فام باشندوں پر حملے کر رہے ہیں۔برطانوی شہر ساؤتھ پورٹ میں تین بچیوں کے قتل کے خلاف ملک کے متعدد شہروں اور قصبوں میں انتہائی دائیں بازو سے تعلق رکھنے والے گروہوں کے پْرتشدد احتجاجی مظاہروں کے بعد پولیس نے ہفتہ کو 80 سے زیادہ افراد کو گرفتار کرلیا ہے۔ہل، لیورپول، برسٹل، مانچیسٹر، بلیک پول اور بیلفاسٹ میں ہونے والے احتجاجی مظاہروں کے دوران بوتلیں پھینکی گئیں، دْکانوں کو لوٹا گیا اور پولیس پر بھی حملے ہوئے۔برطانوی وزیرِ اعظم نے کہا ہے کہ ان کی حکومت پولیس کو ’نفرت کے بیج بونے کی کوشش کرنے والے انتہا پسندوں‘ کے خلاف کارروائی کے لیے ’بھرپور حمایت‘ فراہم کرے گی۔واضح رہے کہ پیر کے روز ساؤتھ پورٹ کے ایک مقامی ڈانس سکول میں بچوں کی ڈانس پرفارمنس کے دوران ایک شخص نے اچانک نمودار ہو کرچاقو سے حملہ کر دیا تھا۔ اس حملے میں تین بچیاں ہلاک ہو گئی تھیں۔ہارٹ ا سپیس سنٹر میں تقریب کے دوران ہونے والے حملے میں آٹھ بچوں سمیت 10 دیگر افراد بھی زخمی ہوئے تھے۔دوسری جانب تین بچیوں کے قتل کے الزام میں گرفتار 17 سالہ ملزم پر قتل کا الزام عائد کر دیا گیا ہے۔ ان پر قتل کی کوشش کے 10 الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ ان پر تیز دھار آلہ رکھنے کا بھی الزام ہے۔ملزم کی کم عمری کے باعث ان کا نام ظاہر نہیں کیا جا سکتا ہے۔ملزم کی گرفتاری کے بعد ملک بھر میں احتجاجی مظاہرے جاری ہیں اور اس دوران کچھ مظاہرین سکیورٹی اہلکاروں سے لڑتے ہوئے بھی نظر آئے۔برطانیہ میں مسلمان مخالف واقعات پر نظر رکھنے والے گروپ ’ٹیل ماما‘ کی ڈائریکٹر کا کہنا ہے کہ برطانوی مسلمانوں میں اپنے تحفظ سے متعلق تشویش میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ایمان عطا نے میڈیاکو بتایا کہ ’لوگ مسجدوں میں جانے سے بھی ڈر رہے ہیں۔‘ انھیں ایسی بہت سی اطلاعات موصول ہوئیں کہ اس وقت ملک بھر میں جاری کشیدگی میں مسلمان خواتین کو بھی ہدف بنایا جا رہا ہے۔اس سے قبل پولیس کے شعبے کو دیکھنے والے وزیر ڈیم ڈیانا جانسن کا کہنا تھا کہ یہ ملک کے لیے ایک بہت سخت ہفتہ ثابت ہوا ہے۔ احتجاج کے دوران ایک پولیس اہلکار کے سر پر کْرسی پھینک کر ماری گئی اور ایک اور اہلکار کو لات مار کر موٹرسائیکل سے گرایا گیا۔یہ دائیں بازو سے تعلق رکھنے والے مظاہرین اسلام مخالف اور پناہ گزینوں کے خلاف نعرے لگا رہے تھے اور اس دوران پولیس پر آتشی مادہ بھی پھینکا گیا۔پولیس اہلکاروں نے اس دوران 23 افراد کو حراست میں بھی لیا ہے۔اسسٹنٹ چیف کانسٹیبل کا اس حوالے سے کہنا تھا کہ: ’میریسائیڈ کے علاقے میں تشدد، افراتفری اور تباہی کی کوئی جگہ نہیں ہے۔‘’جو لوگ اس طرح کا برتاؤ کر رہے ہیں وہ خود کو اور اس شہر کو شرمسار کر رہے ہیں۔‘