برطانیہ میں نسل پرستانہ مظاہرے غنڈہ گردی کی نذر : بورس جانسن

   

لندن ۔ 8 جون (سیاست ڈاٹ کام) برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن نے اتوار کے روز ایک بیان میں کہا ہے کہ برطانیہ میں نسل پرستی مخالف مظاہروں کو “غنڈہ گردی” کرکے خراب کردیا گیا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ پرامن مظاہروں کو غنڈہ گردی کی بھینٹ چڑھانے والوں کو جوابدہ ٹھہرایا جائے گا۔خیال رہے کہ کل اتوار کے روز کئی ہزار افراد لندن میں سڑکوں پر نکل آئے اور انہوں نے امریکی شہر مینیا پولس میں جارج فلائیڈ کے قتل کی مذمت کے لیے لگاتار دوسرے دن بھی مظاہرہ کیا۔اس موقعے پر مظاہرین اور پولیس کیدرمیان جھڑپیں ہوئیں۔قبل ازیں ہفتہ کے روز لندن میں ڈاوننگ اسٹریٹ میں وزیر اعظم کی رہائش گاہ کے قریب جھڑپ کر رہے تھے۔ مظاہرین اور پولیس میں ہونے والی جھڑپوں میں 14 پولیس اہلکار معمولی زخمی ہوگئے تھے۔جانسن نے ٹویٹر پر کہا کہ لوگوں کو سماجی دوری کو مدنظر رکھتے ہوئے پرامن احتجاج کرنے کا حق ہے لیکن انہیں پولیس پر حملہ کرنے کا کوئی حق نہیں ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ مظاہرے غنڈہ گردی کے ذریعہ بگاڑ دیئے گئے ہیں اور وہ اس مقصد کے ساتھ خیانت کر رہے ہیں جس کی وہ حمایت کرتے ہیں۔ ان کے ذمہ داروں کو جوابدہ کیا جائے گا۔برطانیہ میں نسل پرستی کے خلاف احتجاج کے دوسرے دن مظاہرین نے برسٹل میں ایک غلام تاجر کا مجسمہ اتارا اور اسے ندی میں پھینک دیا تھا۔