صرف حیدرآباد اسٹیٹ کا بادشاہ مسلم تھا ، انگریزوں کے ظلم و ستم نظر انداز ، کے ٹی آر کا بی جے پی پر الزام
حیدرآباد ۔ 7 ۔ اکٹوبر : ( سیاست نیوز ) : ٹی آر ایس کے ورکنگ پریسیڈنٹ و ریاستی وزیر آئی ٹی و صنعت کے ٹی آر نے بی جے پی کے زیر قیادت این ڈی اے حکومت سے استفسار کیا کہ جب 17 ستمبر ’ لبریشن ڈے ‘ ہے تو ملکہ الزبتھ دوم کی موت پر سوگ کیوں منایا گیا ۔ انہوں نے کہا کہ جب 17 ستمبر لبریشن ڈے ہوسکتا ہے تو 15 اگست بھی لبریشن ڈے کیوں نہیں ہوسکتا ؟ ۔ 17 ستمبر کا تعلق ایک مسلم بادشاہ سے اس کو اہمیت دی جارہی ہے ۔ فوجی کاروائی کا حوالہ دیتے ہوئے حیدرآباد ریاست کا ہندوستانی مملکت میں انضمام کا حوالہ دیا جارہا ہے ۔ جس کو 17 ستمبر 1948 کی کارروائی قرار دیا جارہا ہے اور مسلم بادشاہ کی ظلم و زیادتی کو پیش کیا جارہا ہے تو 15 اگست 1947 کو کیوں نظر انداز کیا جارہا ہے ۔ دونوں واقعات ایک جیسے کیوں نہیں ہوسکتے ۔ انگریزوں کے مظالم کو کیوں نظر انداز کیا جارہا ہے ۔ ان مظالم کی کیوں بات نہیں کی جارہی ہے ۔ مرکزی حکومت 15 اگست 1947 کی آزادی کا جشن منا رہی ہے ۔ ساتھ ہی برطانیہ کی ملکہ دوم کی موت کا سوگ بھی منا رہی ہے ۔ یہ سب کیا ہے ؟ حیدرآباد اسٹیٹ کے انڈین مملکت کا تعلق ایک مسلم بادشاہ سے ہے اس لیے بی جے پی اس کو موضوع بحث بناتے ہوئے سیاسی فائدہ اٹھانے کی کوشش کررہی ہے ۔ لیکن انگریزوں کے ظلم و ستم پر خاموشی اختیار کی جارہی ہے ۔ بی جے پی کی اس دوغلی پالیسی سے عوام کو چوکنا رہنے کی ضرورت ہے ۔ بی جے پی مذہب کے نام پر انتشار پھیلا رہی ہے ۔ عوام کے درمیان نفرت کے بینج بو رہی ہے ۔ کے ٹی آر نے وزیراعظم نریندر مودی کو ملک کی آزادی کی تاریخ کا سب سے زیادہ نا اہل وزیراعظم قرار دیا ۔ وہ پردھان منتری نہیں بلکہ ’ پرچار منتری ‘ ہیں ۔ وہ اپنے من کی بات کریں گے مگر عوام کے من کی بات ہرگز نہیں سنیں گے ۔۔ ن