برقعہ پوش لڑکیوں کے غیر مسلم لڑکوں کے ساتھ تعلقات افسوسناک

   

دوستی اور عاشقی کے نام پر ناجائز تعلقات ، مسلم سماج کو رسوا کرنے کی سازش ، مذہبی تنظیموں کو بیدار ہونے کی ضرورت
حیدرآباد ۔ 31 ۔ اگست : ( سیاست نیوز ) : مسلم برقعہ پوش لڑکیوں کے غیر مسلم لڑکوں کے ساتھ دوستانہ تعلقات اور عاشقی کے معاملات میں ان دنوں اضافہ ہوگیا ہے ۔ مسلم سماج کو رسوا کرنے اور دنیا و آخرت کی تباہی کے یہ واقعات اب شہری علاقوں تک محدود نہیں رہے بلکہ گاؤں قصبات میں پیش آنے لگے ہیں ۔ نوجوان مسلم لڑکیوں کی بے راہ روی اور مذہب بیزاری اقدامات میں ایک بڑی سازش کے کارفرما ہونے کے خدشات پائے جاتے ہیں چونکہ مسلم سماج کے خلاف سازش اور مسلم سماج کو تباہ کرنے کے لیے لڑکیوں کا استحصال بھگوا سازش کا حصہ ہے اور کئی مرتبہ ملک کے کئی مقامات پر زعفرانی شدت پسندوں نے برسر عام مسلم لڑکیوں سے شادی کرنے کی ترغیب دی اور انہیں تباہ کرنے کے لیے منظم انداز میں مہم بھی چلائی جارہی ہے اور اس مہم کو بھگوا لو ٹرئپ کا نام دیا گیا ۔ مسلم لڑکی کو محبت کے جال میں پھنسا کر اس سے شادی کے نام پر استحصال کرنا ، موج مستی کرنا اور پھر شادی کے حالات لازمی ہوں تو اپنے طور طریقہ سے شادی کرنا اور بچے پیدا کرنے کے بعد لڑکی کو چھوڑ دینا یہ بھگوا لو ٹرئپ کا حصہ ہے ۔ اس مہم پر عمل آوری کے لیے باضابطہ طور پر انہیں مسلم لڑکیوں سے قریب ہونے کی تربیت دی جاتی ہے ۔ سلام و کلام کے علاوہ روزمرہ ضروریات زندگی میں مسلمانوں کی جانب سے استعمال ہونے والے اسلامی الفاظ اور کلمات کو ادا کرنے کی ترغیب دی جاتی ہے ۔ ماشا اللہ ، الحمدﷲ ، ان شااللہ جیسے کلمات کا استعمال کیا جاتا ہے اور اپنے آپ کو مسلم لڑکیوں سے مخاطب کرتے ہوئے اس طرح پیش کیا جاتا ہے کہ وہ مذہب سے کافی دلچسپی رکھتے ہیں اور مذہب اسلام سے متاثر ہونے کا ڈھونگ کیا جاتا ہے اور اسلامی تعلیمات سے لگاؤ مذہب اسلام کے متعلق معلومات حاصل کرنے کے بہانے قریب ہوتے ہوئے مسلم لڑکیوں سے دل جوئی کی جاتی ہے ۔ اس راستہ سے قریب ہونے کے بعد بھگوا لو ٹرئپ میں ڈال کر ان کی زندگیاں تباہ کی جاتی ہیں ۔ حالیہ دنوں کے واقعات ان حالات کے شاہد ہیں ۔ حیدرآباد کے نواحی علاقہ ناچارم میں ایک لڑکی نے راجستھان کے ساکن پٹیل سے شادی کی اس کا بیٹا بھی ہے ۔ پٹیل نے کسی اور مسلم لڑکی سے دوستی کرلی اور اس کو تباہ کرنے کے مشن پر جٹ گیا ۔ نتیجہ لڑکی ہراسانی اور اذیت کو برداشت نہیں کرپائی اور اس نے خود کشی کرلی ۔ گذشتہ روز کنچن باغ کے علاقہ میں ایک لڑکی نے خود کشی کرلی ۔ جس نے ہندو لڑکے سے لو میارج کیا تھا اس طرح کئی واقعات پائے جاتے ہیں ۔ غیر مسلم لڑکے تعلیمیافتہ ، کالجس اور برسرکار لڑکیوں کو اپنی ہوس کا نشانہ بنارہے ہیں ۔ مسئلہ یہیں تک نہیں رک جاتا بلکہ سڑکوں پر گھومنے پھرنے کے دوران حالات بگڑ رہے ہیں ۔ غیر مسلم لڑکوں کے ساتھ مسلم لڑکیوں کو دیکھ کر مسلم نوجوان ان کا راستہ روک رہے ہیں جس کے نتیجہ میں مسلم نوجوان قانونی کارروائی کا شکار ہورہے ہیں ۔ اپنے مذہب کی لڑکی کو بچانے کی فکر میں خود اپنی زندگیاں تباہ کررہے ہیں ۔ ایسے حالات کا آخر کس کو قصور وار ٹھہرایا جائے ۔ اس عظیم شہر حیدرآباد میں ملی ، مذہبی ، سماجی اور رضاکار تنظیموں کی کوئی کمی نہیں ۔ دعوت و تبلیغ کا کام بھی جاری ہے ۔ لیکن مسلم سماج کی لڑکیوں کو سازش سے بچانے ان کی دنیا و آخرت کو تباہ ہونے سے روکنے کے کوئی موثر اقدامات نہیں ۔ ایک خاتون کا تعلیم یافتہ ہونا پورے خاندان کو بھلائی اور نسلوں کو بہتری سے تعبیر کیا جاتا ہے لیکن تعلیم کس جانب اور تربیت کس انداز کی ہونی چاہئے اس کے اثرات اور نتائج تو بالکل برعکس ثابت ہورہے ہیں ۔ خود مختار ہونے اور اپنے قدموں پر ٹھہرنے اور خاندان کا سہارا بننے کی فکر میں مسلم لڑکیاں سازش کا شکار ہوتی جارہی ہیں ۔ نسلوں کی تربیت کی ذمہ دار لڑکیاں خاندان کی پرورش میں مشغول ہو کر اپنی زندگیاں داؤ پر لگا رہی ہیں ۔ ایک دانشور کے مطابق مسلم مذہبی اور ملی تنظیموں کو چاہئے کہ وہ مسلم سماج کی خواتین میں دعوت و تبلیغ کا کام کریں ۔ تعلیم یافتہ مسلم لڑکیوں کو مذہب سے قریب کرتے ہوئے دیگر مسلم لڑکیوں اور خواتین کی اسلامی تربیت کے لیے ترغیب دیں ۔ جس کے سماج پر بہترین نتائج ظاہر ہوں گے ایک طرف مسلم سماج میں بہتری اور سارے سماج میں امن و سکون قائم ہوگا اور جذباتی مسلم نوجوان بھی اپنی زندگیوں کو تباہ کرنے سے باز رہیں گے ۔ مسلم بستیوں اور کالجس کی طالبات میں دینی شعور کو بیدار کرنے اور مذہب اسلام سے لگاؤ پیدا کریں ۔ مذہب اسلام میں عورت کو دئیے گئے مقام و مرتبہ ، عزت اور احترام اور حقوق کے بارے میں مسلم لڑکیوں کو بتایا جائے جس سے انہیں ان کی اہمیت معلوم ہوسکے اور ساری سازشوں کو بذریعہ علم ناکام بنایا جاسکتا ہے اور اس کام کے لیے باشعور مسلم لڑکیوں کو ذمہ داری دی جانی چاہئے جس کے بہترین نتائج برآمد ہوں گے ۔۔ ع