غیر مسلم لڑکیوں ، خاتون گداگروں اور زنخوں کی جانب سے برقعوں کا ناجائز استعمال
شاہین باغ سے لے کر حیدرآباد کے چوراہوں ، پارکس اور ممبئی کی سڑکوں پر کئی واقعات بے نقاب
حیدرآباد :۔ برقعہ یا حجاب دراصل لڑکیوں اور خواتین کو کئی ایک سماجی و معاشرتی برائیوں سے بچاتا ہے ۔ خاص کر انہیں بدنگاہوں کی بدنگاہی بولہوس عناصر کی ہوس اور یہاں تک کہ زنا بالجبر سے محفوظ رکھتا ہے ۔ ساتھ ہی دھوپ کی تمازت سے بھی ان کی جلد کی حفاظت کرتا ہے ۔ ماہرین طب اس بات کو قبول کرچکے ہیں کہ برقعہ جلد کے کینسر سے خواتین کو محفوظ رکھنے میں ممد و معاون ہوتا ہے ۔ اگر ہم اپنے ملک ہندوستان پر ہی غور کرلیں تو اس سرزمین پر سالانہ تقریبا چالیس ہزار خواتین و لڑکیوں کی عصمتیں لوٹی جاتی ہیں ان پر جنسی حملے کیے جاتے ہیں ۔ متاثرین میں اکثریت ان خواتین اور لڑکیوں کی ہوتی ہے جو حجاب کا اہتمام نہیں کرتی ۔ برقعہ پوش خواتین کے ساتھ اس طرح کے گھناونے اور مذموم واقعات پیش نہیں آتے جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ برقعہ خواتین کی ڈھال ہے ۔ وہ جسمانی اور سماجی بیماریوں سے محفوظ رہتی ہیں لیکن حالیہ عرصہ کے دوران برقعہ کا بیجا استعمال کیا جارہا ہے ۔ غیر مسلم خواتین اور لڑکیاں دوسروں کی نظروں سے اپنے ناجائز تعلقات کو چھپانے کی خاطر برقعہ کا بڑے پیمانے پر بیجا استعمال کررہی ہیں جب کہ غیر مسلم گداگر خواتین بھی بھیک مانگنے کی خاطر برقعہ کا بہت زیادہ استعمال کررہی ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ خود ہمارے شہر حیدرآباد فرخندہ بنیاد کے مصروف ترین چوراہوں پر ایسی بے شمار غیر مسلم خواتین نظر آتی ہیں جو برقعے پہنی رہتی ہیں ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہندوستان میں سب سے زیادہ خیرات مسلمان دیتے ہیں وہ کسی بھی خاتون کو جس کی گود میں معصوم بچہ ہو ، کسی بھی معذور کو جو لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلائے کچھ نہ کچھ خیرات ضرورت دیتے ہیں ۔ اس طرح یہ برقعہ پوش غیر مسلم خواتین ان مسلمانوں کی رحمدلی کا ناجائز فائدہ اٹھاتی ہیں ۔ برقعہ با حجاب کرنے والی خواتین کے لیے ایک اور تشویشناک بات یہ ہے کہ اپنی عصمتوں کو سر عام نیلام کرنے والی غیر مسلم خواتین بھی برقعہ کا ناجائز استعمال کرتی دکھائی دیتی ہیں ۔ یہی نہیں بلکہ غیر قانونی و ناجائز کاموں کی انجام دہی کے لیے بھی غیر مسلم مرد اور زنخے ( ہیجڑے ) بھی برقعہ کا ناجائز استعمال کرنے لگے ہیں ۔ یہ سب کچھ برقعہ اور برقعہ پوش خواتین اور لڑکیوں کو بدنام کرنے کے لیے کیا جارہا ہے ۔ بعض نا تجربہ کار صحافی اس بات پر بڑے ہی اہتمام کے ساتھ رپورٹس پیش کرتے ہیں کہ شہر کے مختلف پارکس عاشقی و عیاشی کے اڈے اور مراکز زنا بن چکے ہیں جہاں برقعہ پوش لڑکیاں بہت زیادہ دکھائی دیتی ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ ان لڑکیوں میں اکثریت غیر مسلموں کی ہوتی ہے ۔ حال ہی میں مہاراشٹرا کے کسی مقام پر ایک ہیجڑے کو پکڑا گیا جس نے برقعہ پہن رکھا تھا ۔ کچھ لوگوں نے اسے روک کر برقعہ اتارنے پر مجبور کیا ۔ اس واقعہ کا ویڈیو وائرل ہوا جس میں دیکھا جاسکتا ہے کہ اس ہیجڑے نے اپنے برقعہ میں کٹا ( تیز دھار ہتھیار ) چھپا رکھا تھا ۔ لوگوں کے اعتراض پر اس نے برقعہ اتارا اور ایک مذہبی مقام میں داخل ہوگیا ۔ برقعہ کے ناجائز استعمال کی جب بات آتی ہے تو آپ کو یاد دلادیں کہ انڈور ورلڈ ڈاؤن ابو سالم کی معشوقہ مونیکا بیدی کو 2005 میں جب عدالت میں پیش کیا گیا تب پولیس نے اسے برقعہ پہنا کر پیش کیا تھا جس پر کل ہند مسلم تہوار کمیٹی کے سربراہ اوصاف شامیری نے شدید برہمی ظاہر کی تھی ۔ اس طرح کی مذموم حرکتوں کی بالی ووڈ بھی حوصلہ افزائی کررہا ہے ۔ بعض اداکاراوں نے اپنی ہی فلمیں برقعہ پہن کر محتلف ٹاکیزوں میں دیکھی ہیں ۔ مختلف مقامات کا دورہ کیا ۔ حالیہ عرصہ کے دوران سی اے اے ، این آر سی اور این آر پی کے خلاف احتجاج کے دوران بھی برقعہ کا بیجا استعمال کیا گیا اور برقعہ پوش خواتین کو بدنام کرنے کی کوشش کی گئی ۔ اس سلسلہ میں یوٹیوبر اور آر ایس ایس کی حامی گنجاکپور کی مثال پیش کی جاسکتی ہے جو برقعہ پہن کر شاہین باغ کی احتجاجی خواتین کی ہمدرد کی حیثیت سے ان میں داخل ہو کر تصاویر لے رہی تھی ۔ خواتین سے مختلف سوالات کررہی تھی اس کی مشکوک حرکتوں کو دیکھ کر باحجاب پاکیزہ خواتین نے اس نادیدہ خاتون کو نہ صرف پکڑا بلکہ اسے برقعہ اتارنے پر مجبور کر کے بے نقاب بھی کردیا ۔ بعد میں دہلی پولیس گنجا کپور کو اس کے آقاؤں کے اشارے پر وہاں سے لے کر چلی گئی۔ بہر حال جس طرح جون 2011 میں بابا رام دیو نے دہلی کے رام لیلا میدان سے زنانی لباس پہن کر راہ فرار اختیار کی تھی اسی طرح غیر مسلم خواتین اور لڑکیاں یہاں تک کہ زنخے برقعہ کا ناجائز استعمال کرہے ہیں جسے روکنے کی ضرورت ہے ۔۔