چھتیس گڑھ سے بقایا جات پر تنازعہ، سابق چیف منسٹر چندر شیکھر راؤ کی مشکلات میں اضافہ
حیدرآباد۔/18 جون، ( سیاست نیوز) چھتیس گڑھ سے برقی خریدی معاہدے اور یادادری و بھدرادری پاور پراجکٹس کی تعمیر کے سلسلہ میں مبینہ بے قاعدگیوں کی جانچ کرنے والے جسٹس نرسمہا ریڈی کمیشن کو سابق چیف منسٹر چندر شیکھر راؤکے مکتوب کے بعد بی آر ایس کی مشکلات میں اضافہ ہوچکا ہے۔ کے سی آر نے برقی خریدی معاہدات کو درست قرار دیتے ہوئے جسٹس نرسمہا ریڈی کو جو مکتوب روانہ کیا اس کے جواب میں اسٹیٹ الیکٹریسٹی ریگولیٹری کمیشن نے دعویٰ کیا کہ برقی خریدی معاہدات کے نتیجہ میں تلنگانہ کو 6 ہزار کروڑ کا نقصان ہوا ہے۔ چھتیس گڑھ سے برقی خریدی معاہدات کو ریگولیٹری کمیشن نے منظوری نہیں دی تھی۔ سرکاری ذرائع نے کے سی آر کے مکتوب کے بعد سابق حکومت کے اہم فیصلوں سے تلنگانہ کو نقصانات کی تفصیلات کا انکشاف کیا ہے۔ جسٹس نرسمہا ریڈی کمیشن پر تنقید کرتے ہوئے کے سی آر نے انہیں تحقیقات سے دستبردار ہونے کا مشورہ دیا۔ کے سی آر نے تحقیقاتی کمیشن کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ اسے برقی خریدی معاہدات اور برقی پراجکٹس کی تعمیر جیسے امور کا جائزہ لینے کا اختیار نہیں ہے۔ انہوں نے ریگولیٹری کمیشن کی جانب سے معاہدات کی منظوری کا دعویٰ کیا جبکہ سرکاری ذرائع نے کہا کہ ریگولیٹری کمیشن نے برقی خریدی معاہدات کو منظوری نہیں دی۔ عہدیداروں کا کہنا ہے کہ 2017 کے اواخر سے چھتیس گڑھ سے کئے گئے برقی خریدی معاہدات پر عمل کیا جارہا ہے۔ چھتیس گڑھ نے 1000 میگا واٹ برقی سربراہی کے معاہدہ کی تکمیل نہیں کی جس کے نتیجہ میں تلنگانہ حکومت کو دیگر ذرائع سے برقی خریدنے پر مجبور ہونا پڑا ۔چھتیس گڑھ حکومت کی جانب سے معاہدہ کی عدم تکمیل کے باعث 2017 اور 2022 کے درمیان 2083 کروڑ کے زائد اخراجات ہوئے ہیں۔ عہدیداروں کے مطابق سابق بی آر ایس حکومت کا دعویٰ ہے کہ اس نے 3.90 روپئے فی یونٹ کے حساب سے برقی خریدی کی تھی جبکہ دیگر اخراجات کو شامل کریں تو فی یونٹ 5.64 روپئے کا خرچ آیا ہے۔ برقی معاہدات کے بعد 2017 اور 2022 کے درمیان 17996 ملین یونٹ برقی حاصل کی گئی جس کیلئے 7719 کروڑ ادا کئے گئے۔ حکومت نے چھتیس گڑھ کو بقایا جات کے طور پر 1081 کروڑ روپئے ادا کئے جبکہ ٹرانسمیشن چارجس کے طور پر 1362 کروڑ ادا کئے گئے جس کے نتیجہ میں فی یونٹ برقی کے اخراجات میں اضافہ ہوا ہے۔ عہدیداروں کے مطابق طئے شدہ معاہدہ سے3110 کروڑ کی ادائیگی کی گئی۔سابق چیف منسٹر کے سی آر نے دعویٰ کیا کہ ان کی حکومت نے برقی کی سخت ضرورت کے تحت چھتیس گڑھ سے معاہدہ کیا تھا لیکن سرکاری اعداد و شمار کے مطابق مارکٹ ریٹ سے زیادہ رقم ادا کی گئی۔ سرکاری ذرائع کے مطابق پاور گرڈ کارپوریشن آف انڈیا لمیٹیڈ سے1000 میگاواٹ کے حصول کا معاہدہ کیا گیا۔ قواعد کے مطابق برقی سربراہ ہو یا نہ ہو حکومت کو پاور گرڈ کارپوریشن کو رقم ادا کرنا ضروری ہے لہذا تلنگانہ حکومت نے چھتیس گڑھ سے برقی کے حصول کے بغیر ہی 638 کروڑ روپئے ادا کئے۔ بی آر ایس حکومت نے مزید 1000 میگاواٹ کیلئے نئی برقی راہداری کا انتخاب کیا۔ چھتیس گڑھ حکومت سے معاہدات 2022 میں ختم ہوگئے جس کے بعد پاور گرڈ کارپوریشن کو 261 کروڑ کی ادائیگی کیلئے نوٹس جاری کی گئی۔ برقی عہدیداروں نے دعویٰ کیا ہے کہ برقی کے بقایا جات کے مسئلہ پر دونوں ریاستوں میں تنازعہ برقرار ہے۔ بی آر ایس حکومت کا دعویٰ ہے کہ وہ 1081 کروڑ روپئے کی ادائیگی باقی ہے جبکہ چھتیس گڑھ حکومت 1715 کروڑ کی ادائیگی کی مانگ کررہی ہے۔ اس سلسلہ میں چھتیس گڑھ حکومت نے الیکٹریسٹی اپیلیٹ ٹریبونل میں درخواست داخل کی ہے۔ کے سی آر حکومت میں تلنگانہ کیلئے برقی خریداری کا مسئلہ ریاست میں کانگریس حکومت کے برسر اقتدار آنے کے بعد تنازعہ کی شکل اختیار کرگیا اور برقی خریداری کیلئے چھتیس گڑھ حکومت کے ساتھ کئے گئے معاہدہ کی تحقیقات کا مطالبہ زور پکڑنے لگا ۔ کانگریس حکومت نے برقی خریداری اور اس کے لئے کئے گئے معاہدات اور ریاست تلنگانہ کو ہونے والے نقصانات کی تحقیقات کا فیصلہ کیا ۔ اس دوران کے سی آر اور اس وقت کے وزیر برقی جگدیش ریڈی کی جانب سے ان الزامات کی تردید کی جارہی ہے ۔1