حیدرآباد ۔ 15 ۔ جون : ( سیاست نیوز) : تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی کے ورکنگ پریسیڈنٹ و رکن قانون ساز کونسل مہیش کمار گوڑ نے بی آر ایس کے سربراہ سابق چیف منسٹر کے سی آر کی جانب سے پاور کمیشن کے سامنے رجوع ہونے کے بجائے 12 صفحات پر مشتمل مکتوب روانہ کرنے پر سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ برقی خریدی معاہدے میں بڑے پیمانے کی بے قاعدگیاں اور بدعنوانیاں ہوئی ہیں اس کی تحقیقات شروع ہوچکی ہے ۔ اپنی بدعنوانیاں منظر عام پر آجانے کے خوف میں کے سی آر مبتلا ہوچکے ہیں ۔ اس لیے تحقیقاتی کمیشن کو غیر قانونی قرار دینے کے ساتھ سیاسی انتقام لینے کی کوشش کرنے کا حکومت پر الزام عائد کررہے ہیں ۔ مہیش کمار گوڑ نے کہا کہ اگر وہ بے قصور ہے انہوں نے کوئی غلطی نہیں کی ہے تو وہ مکتوب روانہ کرنے کے بجائے مکتوب میں جو تحریر کیا گیا ہے وہ کمیشن کے روبرو حاضر ہو کر اپنا بیان ریکارڈ کراسکتے تھے ۔ تاہم انہوں نے پھر ایک مرتبہ تلنگانہ جذبہ سے فائدہ اٹھانے اور دوبارہ عوامی ہمدردی حاصل کرنے کی کوشش کی ہے ۔ اگر کے سی آر بے قصور ہے تو اپنے آپ کو کمیشن کے سامنے ثابت کریں ۔ مہیش کمار گوڑ نے برقی خریدی کو بہت بڑا اسکام قرار دیا اور کہا کہ عوامی فنڈز کا جو بیجا استعمال ہوا ہے اس کو منظر عام پر لانا ضروری ہے ۔ اس کے لیے حکومت نے جسٹس نرسمہا ریڈی کی قیادت میں کمیشن تشکیل دیا ۔ کمیشن برقی خریدی معاہدوں کے ذمہ داروں کو طلب کرتے ہوئے پوچھ تاچھ کررہی ہے ۔ بہت جلد حقائق منظر عام پر آئیں گے ۔۔ 2