برقی شرحوں میں اضافہ کے لیے چیف منسٹر کی منظوری ، یکم اپریل سے نئے ٹیرف

,

   

تلنگانہ میں برقی طلب میں اضافہ ، موسم گرما میں خصوصی انتظامات کرنے اور بلا وقفہ برقی سربراہی کو یقینی بنانے کے سی آر کی ہدایت
حیدرآباد ۔ 29 ۔ فروری : ( سیاست نیوز ) : چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے برقی شرحوں میں اضافہ کے لیے منظوری دے دی ہے ۔ برقی صارفین کو امکان غالب ہے کہ یکم اپریل سے اضافی شرح ادا کرنی پڑے گی ۔ برقی بلوں میں اصافی شرحوں پر عمل آوری کی تاریخ سے متعلق ابھی واضح بیان نہیں دیا گیا ۔ البتہ برقی ڈسٹری بیوشن کمپنیوں سے کہا گیا ہے کہ وہ شرحوں میں اضافہ کریں ۔ یہ اضافہ ڈومسٹک ، کمرشیل اور انڈسٹریل کے بشمول تمام زمرے کے صارفین پر کیا جائے گا اور امکان ہے کہ یکم اپریل سے نئی شرحوں کو نافذ کیا جائے گا ۔ یہ اضافہ گھریلو صارفین کے لیے 8 فیصد اور 10 فیصد کے درمیان ہوگا ۔ ماہانہ 100 یونٹ سے 1000 یونٹ تک برقی استعمال کرنے والوں کے زمروں میں آنے والوں پر 8 فیصد تا 10 فیصد زائد برقی شرح عائد ہوں گی ۔ کمرشیل اور انڈسٹریل زمروں کے صارفین کے لیے بہت زیادہ شرحوں کی تجویز کے ساتھ ٹیرف پر نظر ثانی کی جائے گی ۔ ڈسکامس اس اضافہ کے ذریعہ سالانہ 1500 کروڑ روپئے کے اضافی رقم حاصل کرنے کا منصوبہ بنا رہا ہے ۔ برقی شرحوں میں اضافہ کا فیصلہ پرگتی بھون میں منعقدہ ایک اجلاس میں چیف منسٹر نے جائزہ لیا محکمہ برقی ، ڈسکامس ، ٹی ایس ٹرانسکو اور ٹی ایس جینکو سے تعلق رکھنے والے عہدیداروں کے ساتھ برقی شرحوں میں اضافہ کا جائزہ لیتے ہوئے چیف منسٹر نے کہا کہ ریاست میں برقی کی طلب میں اضافہ کے پیش نظر شرحوں میں اضافہ کو ضروری سمجھا جارہا ہے ۔ سدرن اور نادرن برقی سربراہ کرنے والی کمپنیوں کی جانب سے مجوزہ برقی شرحوں میں اضافہ کی تفصیلات پیش کی جائیں گے ۔ اس کے ساتھ تلنگانہ اسٹیٹ الیکٹریسٹی ریگولیٹری کمیشن کو بھی اضافی مالیہ کی ضرورت کی تجاویز بھی پیش کی جائیں گی ۔ اگرچیکہ ان برقی شرحوں میں اضافہ کی اجازت چار سال کے بعد دی گئی ہے جب کہ ڈسکامس نے 15000 کروڑ کے خسارہ کی پابجائی کے لیے زور دیا تھا لیکن چیف منسٹر کے سی آر نے ڈسکامس سے کہا تھا کہ وہ ماہانہ 100 یونٹ تک برقی استعمال کرنے والوں پر یہ بوجھ نہ ڈالیں ۔ سدرن ڈسکام کو فی یونٹ 39 پیسے کا نقصان ہورہا ہے ۔ جب کہ نادرن ڈسکام کو ہر یونٹ پر 17 پیسے کا نقصان ہورہا ہے ۔ نادرن اور سدرن کو 13,700 کروڑ روپئے کے بقایا جات پائے جاتے ہیں ۔ چیف منسٹر نے ان ڈسٹری بیوشن کمپنیوں کو تیقن دیا کہ حکومت آنے والے بجٹ 2020-21 میں برقی سبسیڈی کے طور پر 10,000 کروڑ روپئے الاٹ کرے گی تاکہ اس خسارہ کا کچھ بوجھ کم ہوسکے ۔ ریاست تلنگانہ میں برقی کی طلب میں اضافہ کو دیکھتے ہوئے ٹی آر ایس حکومت نے برقی پیداوار کا عمل بھی تیز کردیا ہے ۔ ریاست میں برقی کی طلب میں نیا ریکارڈ اضافہ ہوا ہے ۔ اس وقت برقی کی طلب 13,168 میگا واٹ ہے جب کہ 13 مارچ 2014 غیر منقسم آندھرا پردیش میں برقی کی طلب 13,162 ایم ڈبلیو تھی ۔ ریاست تلنگانہ کے قیام کے بعد صرف تلنگانہ کیلئے ہی برقی کی طلب 13168mw ہوئی ہے ۔ ٹاملناڈو کے بعد تلنگانہ برقی استعمال کرنے والی دوسری ریاست بن گئی ہے ۔ اس کے بعد کرناٹک کا تیسرا مقام ہے ۔ ریاست میں سال 2014 میں برقی پیدا کرنے کی گنجائش صرف 7780 ایم ڈبلیو تھی جو برقی کی کمی کا باعث بن رہی تھی ۔ تلنگانہ کے قیام کے بعد حکومت نے صرف پانچ سال میں برقی کی پیداوار کو 16500 ایم ڈبلیو کیا ۔ چیف منسٹر چندر شیکھر راؤ نے برقی محکموں کو ہدایت دی ہے کہ موسم گرما میں برقی کی سربراہی کو یقینی بنائیں ۔ گرما میں برقی کی طلب میں اضافہ کو پیش نظر رکھ کر اس سلسلہ میں ضروری انتظامات کیے جائیں ۔ چیرمین و منیجنگ ڈائرکٹر ٹی ایس ٹرانسکو اور ٹی ایس جینکو ڈی پربھاکر راؤ نے کہا کہ چیف منسٹر کی ہدایت کے مطابق طلب کے مطابق برقی سربراہی کو یقینی بنایا جارہا ہے ۔ گذشتہ سال اگست میں کالیشورم لفٹ اریگیشن اسکیم کے افتتاح کے بعد سے برقی طلب میں اضافہ کو دیکھتے ہوئے 20 لفٹس آپریٹنگ کیے جارہے ہیں ۔ ریاستی حکومت برقی پیداوار میں اضافہ کیلئے تمام کوشش جاری رکھے ہوئے ہے ۔۔