مہنگائی : پٹرول و ڈیزل کے اضافی بوجھ کے بعد عوام کو برقی کا شاک
حیدرآباد ۔ 3 ۔ نومبر : ( سیاست نیوز ) : ہر دن کسی نہ کسی شعبہ میں کسی نہ کسی شئے کی قیمت میں اضافہ ہوتا جارہا ہے ۔ ریاستی عوام پر ایک اور اضافی بوجھ پڑنے والا ہے ۔ یقینا اس بات سے شہریوں کو دھکہ لگے گا لیکن یہ شاک عام شاک نہیں بلکہ برقی کی اضافی قیمتوں کا برقی شاک ہوگا ۔ امکان ہے کہ برقی سربراہی کمپنیاں و ادارے آئندہ سال سے برقی قیمتوں میں اضافہ کرسکتی ہے ۔ قیمتوں میں فی یونٹ اضافہ کے لیے تمام تر تیاریاں کرلی گئی ہیں اور وجوہات کو بھی بتایا جارہا ہے ۔ اس بات کا اندازہ لگایا جارہا ہے کہ فی یونٹ 2.01 روپئے تا 2.34 روپئے فی یونٹ سرچارج میں اضافہ کیا جائے گا ۔ اس مجوزہ سفارش پر نومبر 23 تک اعتراضات حاصل کئے جائیں گے ۔ اور ماہ دسمبر میں اضافی قیمتوں کا اعلان ممکن ہے ۔ اس کے علاوہ صنعتوں سے برقی 372.51 کروڑ روپئے وصول کرنے کا ڈسکام نے فیصلہ کیا ہے اور یہ سرچارجس اوپن ایکسیس میں خریدی جانے والی برقی پر وصول کئے جائیں گے ۔ قیمتوں میں اضافہ کا سبب ڈسکام اپنے بوجھ کو کم کرنے کی خاطر عوام پر اضافی قیمتوں کا بوجھ ڈال رہا ہے چونکہ ان دنوں ریاستی برقی شعبہ سے برقی کی خریداری کے بجائے راست طور پر عام مارکٹ سے اوپن ایکسیس طریقہ کار پر برقی کی خریداری کی جارہی ہے ۔ ڈسکام سے کم قیمت پر برقی فروخت کرنے والے اداروں سے اوپن ایکسیس پر چند بڑی صنعتیں برقی خریداری کررہی ہیں ۔ اس ضمن میں سال 2021-22 مالی سال میں اوپن ایکسیس استفادہ کنندگان سے 372.51 کروڑ روپئے زائد سرچارج کے طور پر وصول کئے جائیں گے اور اوپن ایکسیس پر خرید گئے ہر یونٹ پر 2 روپئے تا 2 روپئے 30 پیسے تک زائد وصول کئے جائیں گے ۔ دیرینہ معاہدات کے ذریعہ سال 2021-22 کے پہلے 6 ماہ میں 8,210.18 میگا واٹ اور دوسرے 6 ماہی میں 8,574.88 میگا واٹ لاسکام کے یہاں دستیاب رہنا ہے ۔ لیکن اوپن ایکسیس کے سبب پہلے 6 ماہ میں 171.89 میگا واٹ اور دوسرے 6 ماہی حصہ میں 219.76 میگا واٹ برقی کو ڈسکام فروخت نہیں کرپایا ہے ۔ جس کے سبب برقی ، ٹرانسمیشن ، ڈسٹری بیوشن چارجس کے نقصانات کو پورا کرنے کے لیے اوپن ایکسیس کے ذریعہ خریدی گئی برقی پر سرچارجس وصول کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔۔ ع