لاک ڈاؤن مدت کی بلز کی تین ماہ میں تقسیم کے بعد اجرائی کا فیصلہ
حیدرآباد۔2جون(سیاست نیوز) تلنگانہ اسٹیٹ سدرن پاؤر ڈسٹریبیوشن لمیٹڈ کی جانب سے برقی میٹروں کی ریڈنگ کا عمل شروع کردیا گیا ہے اور لاک ڈاؤن کی مدت کے دوران مستعملہ برقی کو تین ماہ میں منقسم کرتے ہوئے بلوں کی اجرائی کافیصلہ کیا گیا ہے۔ ریاستی حکومت کی جانب سے لاک ڈاؤن کے دوران برقی میٹرس کی ریڈنگ نہ کرنے کے فیصلہ کے بعد یہ کہا گیا تھا جو لوگ بل ادا کرسکتے ہیں وہ سال گذشتہ کے دوران ماہ مارچ‘ اپریل اور مئی میں جو بل جاری کیا گیا ہے وہ ادا کردیں ۔ٹی ایس ایس پی ڈی سی ایل کی جانب سے کئے گئے اس اعلان کے باوجود نصف سے زائد گھریلو صارفین نے بل ادا نہیں کئے ہیں جس کے سبب کارپوریشن کو ماہانہ آمدنی میں کمی واقع ہوئی ہے ۔ماہ جون کے آغاز کے ساتھ ہی ٹی ایس ایس پی ڈی سی ایل کی جانب سے میٹر ریڈنگ کے ساتھ بل جاری کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے اور تین ماہ کی ریڈنگ کو تین حصوں میں منقسم کرتے ہوئے علحدہ علحدہ بلوں کی اجرائی عمل میں لائی جائیگی۔شمالی تلنگانہ کے اضلاع میں برقی سربراہی اور برقی بلوں کی وصولی کے مجاز ادارہ ٹی ایس ایس پی ڈی سی ایل کی جانب سے جو ٹرو ریڈنگ کی جائے گی اس کیلئے ان تمام کنٹراکٹ ملازمین کو واپس طلب کیا گیا ہے جنہیں تین ماہ قبل ملازمت سے علحدہ کرنے کا منصوبہ تیار کیا گیا تھا ۔بتایاجاتا ہے کہ میٹرریڈنگ کیلئے جانے والے کنٹراکٹ ملازمین کو کورونا وائرس سے بچاؤ کی احتیاطی تدابیراختیار کرنے کے علاوہ ہاتھوں کی صفائی اور دیگر امور بالخصوص چہرے پر ماسک کے استعمال کو یقینی بنانے کی تاکید کی گئی ہے ۔عہدیدارو ںنے بتایا کہ ٹی ایس ایس پی ڈی سی ایل کی جانب سے کئے گئے فیصلہ کے مطابق فوری طور پر گھریلو صارفین کے بلوں کی اجرائی عمل میں لائی جائے گی اور دوسرے مرحلہ میں تجاری اور صنعتی صارفین کے میٹر کی ریڈنگ حاصل کرتے ہوئے انہیں بل جاری کئے جائیں گے ۔ذرائع کے مطابق حیدرآباد اور سکندرآباد میں لاک ڈاؤن کے دوران جو برقی بل آن لائن وصول نہیں ہوپائے ہیں ان کی وصولی کیلئے خصوصی مہم شروع کی جائے گی اور صارفین کو آن لائن برقی بل کی ادائیگی کے سلسلہ میں باشعور بناتے ہوئے انہیں آن لائن ادائیگیوں کی جانب راغب کروایا جائے گا۔برقی میٹروں کی ریڈنگ کے عمل کے آغاز اور برقی بلوں کی وصولی کی مہم شروع ہونے پر عوام کی برہمی کے خدشات بھی پائے جانے لگے ہیں کیونکہ لاک ڈاؤن کے سبب کاروبار بری طرح متاثر ہونے کے علاوہ عوام کے پاس کوئی ذرائع آمدنی نہیں تھے اور عوام نے متعددپلیٹ فارمس کے ذریعہ حکومت سے برقی بل معاف کرنے کی اپیل کی تھی۔