برقی کی پیداوار میں تلنگانہ کا ایک اور اہم سنگ میل

,

   

ملک کا تیسرا جنوبی ہند کا پہلا کچرے سے برقی تیار کرنے والا پلانٹ حیدرآباد میں تیار
حیدرآباد :۔ برقی شعبہ میں تلنگانہ ایک اور اہم سنگ میل عبور کرنے والا ہے ۔ کچرے سے برقی کی پیداوار میں ریاست کو سارے ملک میں تیسرا اور جنوبی ہند میں پہلا مقام حاصل ہورہا ہے ۔ دہلی اور احمد آباد کے بعد گریٹر حیدرآباد میں تیسرا پلانٹ تیار ہورہا ہے ۔ جواہر نگر میں پلانٹ پوری طرح تیار ہوگیا ہے ۔ بیاک چارجنگ کو ٹی ایس پی ڈی سی ایل سے منظوری حاصل ہوگئی ہے ۔ جی ایچ ایم سی کے ایک عہدیدار نے بتایا کہ برقی پلانٹ ( ویسٹ ٹو انرجی ) کے افتتاح کے لیے تیاریاں شروع کردی گئی ہیں ۔ اسی ہفتہ برقی پلانٹ شروع کرنے کا ارادہ تھا تاہم وزیر بلدی نظم و نسق کے ٹی آر کی مصروفیات کے باعث کسی قدر تاخیر ہورہی ہے ۔ ٹی ایس پی ڈی سی ایل سے منظوری حاصل ہونے کے بعد لوڈٹسٹنگ کے ساتھ بیاک چیاجنگ ٹرایل رن کا آغاز کردیا گیا ہے ۔ جی ایچ ایم سی کا حدود 650 کیلو میٹر پر پھیلا ہوا ہے ۔ جہاں سے روزانہ اوسطاً 6300 میٹرک ٹن کچرا حاصل ہوتا ہے ۔ شہر میں آبادی کے تیزی سے پھیلاؤ کے بعد کچرے دانوں پر عوام کے اعتراضات شروع ہوئے ہیں اور پانی آلودہ ہونے کی شکایتوں کے بعد حکومت نے کچرے سے برقی پیدا کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ کچرے کے نکاسی کی ذمہ داری ایک خانگی ادارے کو سونپی گئی ہے ۔ یہ خانگی ادارہ جواہر نگر ڈمپنگ یارڈ میں کچرے کو وہیں منتقل کرتے ہوئے خشک اور تری کچرے کو علحدہ علحدہ کررہا ہے اور خشک کچرے کو برقی کی پیداوار کے لیے استعمال کیا جائے گا ۔ پہلے مرحلے میں 19.8 میگا واٹ برقی پیدا کرنے کا منصوبہ تیار کیا گیا ہے ۔ برقی کی پیداوار کیلئے مقررہ نشانہ حاصل کرنے کیلئے روزانہ 1200 تا 1300 میٹرک ٹن کچرے کو استعمال کیا جائے گا ۔ پلانٹ کا کام مکمل ہوگیا ہے ۔ پیدا ہونے والی برقی کو گرڈ تک پہونچانے کیلئے ٹی ایس پی سی ڈی ایل سے منظوری حاصل ہونے کے بعد پلانٹ سے قریب ملکارام سب اسٹیشن تک تاروں کے ذریعہ برقی سربراہ کرنے کے انتظامات کیے گئے ہیں ۔۔