ریاض: سعودی عرب نے ابھی تک ‘ برکس’ میں شمولیت کی دعوت قبول کرنے یا نہ کرنے سے متعلق ‘برکس’ قیادت کو جواب نہیں دیا ہے۔ رائٹرز کے مطابق اس امر کا اظہار سعودی ذرائع نے جنوبی افریقہ کے وزیر خارجہ نیلڈی پینڈور کی طرف سے یہ کہے جانے ‘ کہ سعودی عرب ‘ برکس’ میں شامل ہو چکا ہے ‘ کے بعد بتائی ہے۔سعودی عرب کے اس معاملے سے متعلق ذرائع کا کہنا ہے ‘ ابھی تک یہ معاملہ زیر غور ہے اور سعودی عرب نے ‘ برکس’ قیادت کو کوئی جواب نہیں دیا ہے۔ خیال رہے’ برکس ‘ نے سعودی عرب کواپنا حصہ بننے کی دعوت پچھلے سال ماہ اگست میں دی تھی۔لازم تھا کہ سعودی عرب اس دعوت کو قبول کرنے کا فیصلہ دسمبر 2023 کے اواخر تک کرے۔ مگراس مقررہ تاریخ کے بعد مزید ماہ گذر چکا ہے۔ اس کے باوجود سعودی عرب نے اپنی رضامندی ظاہر نہیں کی ہے۔سعودی ذرائع نے بتایا کہ یہ معاملہ ابھی تک مملکت میں زیرغور رکھا گیا ہے۔ پچھلے سال ماہ اگست میں ہی ایران، متحدہ عرب امارات ، مصر اور ایتھوپیا کو بھی دعوت دی تھی۔ ان سب سے کہا گیا تھا کہ یکم جنوری تک شامل ہو سکتے ہیں۔ لیکن سعودی عرب نے ابھی تک اس دعوت کو قبول کرنے کا فیصلہ نہیں کیا ہے۔اس بین الاقوامی فورم ‘ برکس ‘ میں جو ممالک پہلے سے ممبر ہیں ان میں برازیل، روس، انڈیا، چین اور جنوبی افریقہ شامل ہیں۔ یہ بنیادی طور پر ایک کثیر ملکی اقتصادی تعاون کا فورم ہے مگر مستقبل میں یہ گلوبل ساؤتھ کیلئے کام کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔
