حیدرآباد ۔7 ۔ جنوری (سیاست نیوز) تلنگانہ ہائی کورٹ نے سنٹرل ایڈمنسٹریٹیو ٹریبونل حیدرآباد بنچ کے 29 ڈسمبر 2025 کو جاری کردہ احکامات کو معطل کرتے ہوئے عبوری حکم التواء جاری کردیا ۔ ایڈمنسٹریٹیو ٹریبونل نے ڈاکٹر جئے تیرتھ آر جوشی کے برہموس وینچر کے ڈائرکٹر جنرل کے طور پر تقرر کو کالعدم کردیا تھا۔ ہندوستان اور روس کی جانب سے مشترکہ طور پر برہموس میزائیل ٹکنالوجی پراجکٹ شروع کیا گیا ہے ۔ چیف جسٹس اپریش کمار سنگھ اور جسٹس جی ایم محی الدین پر مشتمل بنچ نے ایڈمنسٹریٹیو ٹریبونل میں درخواست داخل کرنے وا لے ڈاکٹر ایس نمبی نائیڈو کو چار ہفتوں کی مہلت دی تاکہ جواب داخل کریں۔ عدالت نے مرکزی حکومت اور ڈاکٹر جوشی کو حلفنامہ داخل کرنے کیلئے دو ہفتوں کی مہلت دی ہے۔ واضح رہے کہ 25 نومبر 2024 کو ڈاکٹر جوشی کا تقرر بحیثیت ڈائرکٹر جنرل برہموس کیا گیا تھا۔ سنٹرل ایڈمنسٹریٹیو ٹریبونل نے تقرر میں جانبداری کی شکایت کو قبول کرتے ہوئے تقرر کو کالعدم کردیا تھا۔ ڈی آر ڈی او کے سینئر سائنٹسٹ ڈاکٹر ایس نمبی نائیڈو کی درخواست پر یہ کارروائی کی گئی ۔ ڈائرکٹر جنرل عہدہ کے لئے جو تین نام شارٹ لسٹ کئے گئے تھے ، ان میں ڈاکٹر نائیڈو بھی شامل ہیں۔ سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے عدالت کی کارروائی میں ورچول حصہ لیتے ہوئے ڈاکٹر جوشی کے تقرر کو میرٹ کی بنیاد پر قرار دیا۔ 1
ڈاکٹر نائیڈو کی شکایت تھی کہ وہ ڈاکٹر جوشی سے سینئر ہیں لیکن تقرر میں سینیاریٹی کو نظرانداز کردیا گیا ۔ سینئر کونسل نرنجن ریڈی نے ڈاکٹر جوشی کی جانب سے بحث کرتے ہوئے کہا کہ قومی مفاد کے اس اہم عہدہ پر حکومت نے اہلیت کا جائزہ لیتے ہوئے تقرر کیا ہے۔ چیف جسٹس نے ٹریبونل کے فیصلہ کو معطل کرتے ہوئے آئندہ سماعت 4 ہفتہ بعد مقرر کی۔1
