حیدرآباد۔31جنوری(سیاست نیوز) مہنگائی کے نام پر کی جانے والی من مانی کو روکنے کیلئے حکومت کے اداروں کو سرگرم کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ بیشتر اشیائے ضروریہ کی قیمتوں پر بغیر کسی کنٹرول کے اضافہ کیا جانے لگا ہے جس کے سبب شہریوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے ۔ حالیہ عرصہ میں شہر حیدرآباد میں چائے کی قیمت میں 2 روپئے کا اضافہ کردیا گیا ہے جبکہ چائے کی تیاری میں استعمال ہونے والی کسی بھی شئے کی قیمت میں کوئی اضافہ نہیں ہوا ہے لیکن ہوٹل مالکین کی جانب سے چائے کی قیمت میں 2روپئے کا اضافہ کردیا گیا جو کہ شہریوں کیلئے مشکل کا سبب بنتا جا رہاہے ۔ شہر حیدرآباد میں ریستوراں اور ہوٹلوں میں فروخت کی جانے والی اشیاء کی قیمتوں پر کوئی کنٹرول نہیں ہے اور نہ ہی ان قیمتوں پر کنٹرول کا کوئی میکانزم موجود ہے جس کے سبب ہوٹلوں میں اشیائے خورد و نوش میں اضافہ کے لئے کوئی کسی سے کوئی اجازت نہیں لی جاتی بلکہ من مانی طور پر قیمتوں میں اضافہ کیا جانے لگتا ہے۔شہر حیدرآباد میں اشیائے خورد و نوش کی قیمتوں پر کئے جانے والے اضافہ کو روکنے کیلئے لازمی ہے کہ سرکاری محکمہ جات کی جانب سے ان قوانین پر سختی سے عمل کیا جائے۔ چائے کی قیمتوں میں اچانک دو رپئے کے اضافہ پر شہریوں نے شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے استفسار کیا ہے کہ چائے میں استعمال ہونے والی ایسی کونسی شئے میں اضافہ ہوا ہے جس کے سبب ہوٹل مالکین نے چائے کی قیمت کو 14 روپئے کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔!دودھ ‘ شکر ‘ پتی کے علاوہ گیس کی قیمت میں کوئی اضافہ نہیںہوا اور نہ ہی مزدوری میں کوئی اضافہ کیا گیا ہے لیکن چائے کی قیمت میں کئے گئے اچانک اضافہ سے عوام پر بوجھ عائد ہورہا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ خوردنی تیل کی قیمت میں ہونے والے بے تحاشہ اضافہ سے ہونے والے نقصانات سے نمٹنے کیلئے ہوٹل مالکین کی جانب سے چائے کی قیمت میں اضافہ کیا گیا ہے کیونکہ اگر تیل جن اشیاء میں استعمال کیا جاتا ہے اگر ان کی قیمت میں اضافہ کیا جاتا ہے تو اس کے تجارت پر منفی اثرات مرتب ہوں گے اور تیل کی قیمت میں اضافہ کے منفی اثرات سے نمٹنے کیلئے ہوٹل مالکین چائے کی قیمت میں اضافہ کا فیصلہ کیا ہے کیونکہ دو روپئے کے معمولی اضافہ پر کوئی خاص ردعمل ظاہر نہیں کیا جائے گا اور نہ ہی گاہکوں کو اعتراض ہوگا لیکن ملک کی موجودہ معیشت اور فی کس آمدنی کو دیکھتے ہوئے عوام اس بات پر بھی غور کر رہے ہیں کہ کس شئے کی قیمت میں کتنا اضافہ ہونے لگا ہے اور اس پر کس طرح سے قابو پایا جاسکتا ہے۔