بزرگ اولڈ ایج ہومس اور بچے ہاسٹلس میں ،بکھرتے خاندان

   

Ferty9 Clinic

سہولتیں بڑھ گئی ، رشتے کمزور ہوگئے ، جدید زندگی تنہا انسان
گھر بڑے ہوئے ، دل چھوٹے ہوگئے، ترقی کے نام پر تنہائی کا تحفہ
سہولتوں کا عروج، حاندانی قدروں کا زوال
آرام کی دوڑ میں ہم اپنوں کو ہارتے جارہے ہیں

محمد نعیم وجاہت

آمدنی کی دوڑ… بیرونی ممالک کے مواقع…ٹکنالوجی کی تیز رفتار زندگی اور حد سے بڑھتی خواہشات نے ہندوستانی خاندانی نظام کو شدید بحران سے دوچار کردا ہے جو خاندان ابھی مکمل بھی نہیں ہوپائے وہ بکھرنے لگتے ہیں۔ میاں بیوی کے درمیان فاصلے بڑھ رہے ہیں۔ والدین اور بچوں کے رشتوں میں خلاء پیدا ہوچکی ہے اور بزرگ اپنوں کے ہوتے ہوئے بھی تنہائی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں ۔ کہا جاتا تھا کہ مشترکہ خاندان ہماری طاقت ہیں مگر آج صورتحال یہ ہے کہ چار افراد کے خاندان میں بھی چاروں اپنی اپنی دنیا میں قید ہیں۔ ایک کپ چائے اور چار لفظوں کی ملاقات بھی اب موبائیل اسکرین تک محدود ہوچکی ہے۔ ویڈیو کالس نے رشتوں کا فاصلہ کم نہیں کیا بلکہ جدباتی قربت کو مزید کمزور کردیا ہے ۔ میاں بیوی خاندان کی گا ڑی کے دو پہیئے ہوتے ہیں لیکن آج طلاق کی شرح تشویشناک حد تک بڑھ رہی ہے۔ شادی کے چند ماہ بعد ہی علحدگی کے فیصلے ہورہے ہیں۔ عدالتوں میں طلاق کے مقدمات کی بھر مار نے ججوں کو بھی حیران کردیا ہے جبکہ پولیس تک کو بھی کونسلنگ کا کردار ادا کرنا پڑ رہا ہے۔ معمولی غلط فہمیاں، غصہ ، مالی دباؤ ، عدم برداشت اور ’’مجھے کیوں ایڈجسٹ کرنا چاہئے ‘‘ جیسی سوچ نے رشتوں کو کمزور کردیا ہے ۔
اہلیہ ملک میں اور شوہر بیرون ملک نتیجہ یہ کہ خاندان انتشار کا شکار اور بچوں کا مستقبل غیر یقینی ہوجاتا ہے ۔ شہری زندگی میں والدین صبح دفتر جاتے ہیں اور شام واپس لوٹتے ہیں۔ بچے اسکول کے بعد ٹیوشن یا ہاسٹل میں وقت گزارتے ہیں ۔ ایک سال کے بچوں کو بھی کیر سنٹرس میں چھوڑ کر والدین روزگار کی تلاش میں نکل پڑتے ہیں۔ ہر خواہش پوری کی جارہی ہے مگر وقت توجہ اور محبت کم ہوتی جارہی ہے ۔ والدین فخر سے کہتے ہیں کہ ہم سب کچھ بچوں کیلئے کر رہے ہیں مگر حقیقت یہ ہے کہ بچے کم عمری میں تنہائی کے عادی ہورہے ہیں جس کا اثر ان کی ذہنی نشو و نما ، تعلیم اور شخصیت پر پڑ رہا ہے ۔ دولت اور سماجی حیثیت کا گھمنڈ رشتوں کو نگل رہا ہے ۔ لوگ پیسے کو انسانوں پر ترجیح دینے لگتے ہیں ۔ آسائشوں کی تلاش میں حقیقی خوشی کم ہوچکی ہے ۔ بزرگ یہ کہتے سنے جارہے ہیں کہ مجھے یقین نہیں آتا کہ میرے اپنے بچے اس طرح کی زندگی کی کشمکش سے گزر رہے ہیں اور پوتے پوتیاں خاندان کے دوسرے بچوں سے میل ملاپ میں بھی کھلا ذہن نہیں رکھ پارہے۔ اگر عید و تقاریب میں ان کا آپس میں سامنا بھی ہوتا ہے تو ان میں اپنائیت ، خلوص ، بھائی چارگی نظر نہیں آرہی ہے ۔ وہ برائے نام ایک دوسرے سے ہائے ، ہیلو کہہ رہے ہیں اور محفلوں سے رخصت ہونے میں جلد بازی کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ یہ جملہ جدید طرز زندگی پر ایک تلخ سوالیہ نشان ہے ۔ خاندان کے بکھرنے بزرگوں اور بچوں کی مناسب انداز میں دیکھ بھال نہ ہونے کی وجہ سے اکثر بزرگ اپنی زندگی کے آخری دن اولڈ ایج ہومس میں گزارنے پر مجبور ہیں جبکہ بچے ہاسٹلوں میں پرورش پارہے ہیں۔ اس بدلتے طرز زندگی نے خاندانی رشتوں کو کمزور کردیا ہے ، قربت کی جگہ فاصلے نے لے لی ہے اور آہستہ آہستہ خاندان ٹوٹتے جارہے ہیں ۔ یہ صورتحال صرف سماجی نہیں بلکہ ایک گہرائی انسانی المیہ بنتی جارہی ہے۔ جہاں سہولتیں تو بڑھ رہی ہیں مگر اپنا ئیت کم ہوتی جارہی ہے ۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ تعلیم صرف ڈگری کا نام نہیں اقدار سکھانا بھی اتنا ہی ضروری ہے ۔ والدین کو چاہئے کہ بچوں کے ساتھ وقت گزاریں۔ احترام بزرگان ، باہمی تعاون اور ہمدردی کی تربیت دیں۔ میاں بیوی کو ایک دوسرے کو سمجھنا ہوگا ۔ برداشت اور ایڈجسٹمنٹ کو کمزوری نہیں بلکہ طاقت سمجھنا ہوگا ۔ گلے ملنا ، بات کرنا ، ضرورتمندوں کی مدد کرنا اور رشتوں کو وقت دینا ہی اس بکھرتے حاندانی نظام کو سنبھال سکتا ہے ۔ اگر آج ہم رشتوں کو نہ بچایا تو کل صرف سہولتیں ہوں گی ، خاندان نہیں رہیں گے۔ یہ جملہ محض ایک فقرہ نہیں بلکہ ہمارے عہد کا سب سے بڑا سوالیہ نشان ہے ۔ آج ہم جس دنیا میں جی رہے ہیں ۔ وہاں سب کچھ تیز ہے ۔ انٹرنیٹ ، گاڑیاں ، خواب ، خواہشات مگر کچھ آہستہ آہستہ ختم ہورہا ہے تو وہ ہیں رشتے ۔ وہ ماں جو راتوں کو جاگ کر بچوں کو پالا کرتی تھی ۔ آج اولڈ ایج ہوم کے کمرے میں دیوار کو دیکھتے ہوئے دن گزار رہی ہے ۔ وہ باپ جس نے اپنی ساری جوانی اولاد کے بہتر مستقبل کیلئے قربان کی آج اس انتظار میں ہے کہ شائد آج فون آجائے اور وہ بچے جو ماں باپ کے سائے میں پلنے کے بجائے ہاسٹلوں میں بڑے ہورہے ہیں ۔ جہاں سہولتیں تو ہیں مگر اپنائیت سے محروم ہیں ۔ ہم نے زندگی کو کمائی ، ترقی اور ا سٹیٹس تک محدود کردیا ہے ۔ ہم کہتے ہیں اب وقت نہیں ہے ۔ مجھے کیریئر بنانا ہے ، یہ سب مجبوری ہے لیکن سوال یہ ہے کہ کیا رشتے بھی مجبوری بن گئے ہیں ؟ مشترکہ خاندان کبھی ہماری طاقت ہوا کرتے تھے ۔ ایک چھت کے نیچے ہنسی بھی ہوتی تھی ، نارا ضگی بھی مگر دل جڑے رہتے تھے ۔ آج ہر شخص اپنی الگ دنیا میں قید ہے ۔ ایک ہی گھر میں رہ کر بھی لوگ ایک دوسرے کے لئے اجنبی بن چکے ہیں۔ باتیں کم شکایتیں زیادہ ہوگئی ہیں۔ برداشت ختم ہوگیا اور میں کیوں سمجھوتہ کروں، جیسی سوچ عام ہوگئی ہے ۔ ہم بچوں کو مہینگے اسکولس میں داخلہ کروا رہے ہیں۔ بہترین کپڑے دلاتے ہیں ۔ جدید گیجٹس دیتے ہیں مگر وقت نہیں دیتے۔
یاد رکھئے بچے کھلونوں سے نہیں توجہ سے بڑے ہوتے ہیں اور والدین دعوؤں سے نہیں احترام اور محبت سے زندہ رہتے ہیں۔ تعلیم کا مقصد صرف نوکری نہیں انسان بنانا بھی ہے ۔ ترقی کا مطلب صرف آگے بڑھنا نہیں اپنوں کو ساتھ لے کر چلنا ہے ۔ اگر رشتوں کو وقت نہیں دیا اور آج سننا ، سمجھنا اور معاف کرنا نہ سیکھا تو کل ہمارے پاس سب کچھ ہوگا بڑے گھر ، جدید سہولتیں ، پرسکون کمرے مگر ان کمروں میں آوازیں نہیں ہوں گی۔ ہنسی نہیں ہوگی اور سب سے بڑھ کر خاندان نہیں ہوگا ۔
اب بھی وقت ہے۔ ایک فون کریں ، ساتھ بیٹھ کر کھانا کھایئے اور اپنوں کو گلے لگایئے ۔ ہم نے زندگی کو آرام ، آسائش اور رفتار کے پیمانے سیکھ لیا ہے ۔ بڑے گھر تیز رفتار زندگی سب کچھ ہے مگر دلوں کے درمیان فاصلہ بڑھتا جارہا ہے ۔ سہولتیں تھکان کم کرسکتی ہے مگر ماں کی دعا کا نعم البدل نہیں بن سکتی۔ سہولتیں وقت بچاسکتی ہیں مگر باپ کے سائے جیسا تحفظ نہیں دے سکتی ۔ رشتے وہ طاقت ہیں جو مشکل میں حوصلہ دیتے ہیں ۔ خاموشی میں بھی سکون بخشتے ہیں اور تنہائی میں بھی اپنائیت محسوس کراتے ہیں۔