دوحہ:22جنوری (ای میل): اردو و فارسی ادب کے آفتابِ تاباں، مرزا اسد اللہ خان غالبؔکی ہمہ گیر ادبی عظمت اور لازوال فکری وراثت کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کے لیے قطر کی قدیم ترین اردو ادبی تنظیم ’’بزمِ اردو قطر‘‘ (قائم شدہ 1959) کے زیرِاہتمام جمعہ کو ہوٹل کراؤن پلازہ میں ایک نہایت شکوہ آفریں، باوقار اور یادگار عالمی مشاعرہ منعقد ہوا۔ یہ محفل اہلِ ذوق کے لیے ایک روح پرور اور دل نواز اجتماع ثابت ہوئی۔ اس عظیم الشان ادبی محفل میں شعر و سخن سے شغف رکھنے والے نامور دانشوران، اہلِ قلم، نقادانِ ادب اور ادب نواز شخصیات کی بڑی تعداد شرکت کی۔ مشاعرے میں شریک سترہ شعرائے کرام میں سے دس شعراء مختلف ممالک ہندوستان، پاکستان، متحدہ عرب امارات، سعودی عرب اور امریکہ سے تشریف لائے اور مقامی شعرا نے اپنے فکر آفریں کلام پیش کیا۔ یوں یہ ادبی محفل حقیقی معنوں میں اردو زبان و ادب کی عالمی نمائندہ بن کر سامنے آئی۔ یہ عظیم الشان مشاعرہ فکرِ غالبؔ کے محور پر ترتیب دیا گیا تھا جس کے ایک حصے میں انیسویں صدی کی کلاسیکی اردو شاعری، بالخصوص مرزا غالبؔ اور مومن خان مومنؔ کے منتخب کلام کی دل نشیں اور مترنم قرأت پیش کی گئی، جس نے سامعین کو اردو کی کلاسیکی روایت کی لطافتوں، فکری گہرائیوں اور جمالیاتی محاسن سے روشناس کرایا۔ دوسرے حصے میں عالمی مشاعرہ منعقد ہوا، جس نے دیر تک اہلِ ذوق کو اپنے سحر میں جکڑے رکھا۔ اس با وقار مشاعرے کی صدارت شاعرِ خلیج و فخر المتغزلین جلیل نظامی نے فرمائی، جن کے علمی وقار، ادبی مرتبہ اور ہمہ گیر شخصیت نے محفل کو وقار و جلال بخشا۔ نظامت کے فرائض ممتاز نثر نگار، صاحبِ اسلوب خاکہ نگار اور چیئرمین بزمِ اردو قطر ڈاکٹر فیصل حنیف نے نہایت خوش اسلوبی سے انجام دیئے۔ اس یادگار عالمی مشاعرہ کو مزید جِلا ہندوستان کے کہنہ مشق اور نامور شاعر راجیش ریڈی، ممتاز پاکستانی ٹی وی اینکر و شاعر وصی شاہ اور معروف شاعر و نقاد و دانشور اختر عثمان کی بطور مہمانان خصوصی شرکت سے ملی۔ اسی طرح ہندوستان سے منفرد لب و لہجہ کے نوجوان شاعر ڈاکٹر محب وفا، پاکستان سے مشہور مصور و شاعر عدنان بیگ اور خوش فکر شاعر و ادیب ڈاکٹر شہباز نیر، امریکہ سے حمیرا گل تشنہ، متحدہ عرب امارات سے شہباز شمسی اور سعودی عرب سے حسان عارفی کی بطورِ مہمانانِ اعزازی شرکت نے اس ادبی اجتماع کی وقعت اور معنویت میں خاطر خواہ اضافہ کیا۔ بزمِ اردو قطر کے صدر رفیق شاد اکولوی اور جنرل سکریٹری افتخار راغب نے شعرائے کرام کا اسٹیج پر استقبال کیا۔ تقریب کا آغاز قاری عبدالملک فلاحی کی تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا۔ مشاعرے کا افتتاح جلیل نظامی کی دل میں اُتر جانے والی نعتِ رسولِ مقبول ؐ سے ہوا۔ بعدازاں رفیق شاد اکولوی نے خطبہ استقبالیہ پیش کرتے ہوئے بزم اردو قطر کی علمی، ادبی اور تہذیبی خدمات پر روشنی ڈالی ۔ مشاعرے میں شریک ممتاز شعرائے کرام اظفر گردیزی، سانول عباسی، مشفق رضا نقوی، سید فیاض بخاری عرف کمال شہ میری، شہباز شمسی، جمشید انصاری، حسان عارفی، ڈاکٹر محب وفا، افتخار راغب، ڈاکٹر شہباز نیّر، حمیرا گل تشنہ، رفیق شاد اکولوی، وصی شاہ، عدنان بیگ، اختر عثمان، راجیش ریڈی اور جلیل نظامی نے اپنے اپنے منفرد اسلوب میں ایسا سحر طاری کیا کہ سامعین بار بار داد و تحسین کے نذرانے پیش کرنے پر مجبورہوتے رہے۔ اس ادبی اجتماع کی کامیابی میں مشاعرہ کوآرڈینیٹرز ارشاد احمد اور سانول عباسی کی کاوشیں لائقِ تحسین رہیں۔