حیدرآباد ۔ بستی دواخانوں کا استعمال کرنے والوں کی تعداد میں حالیہ عرصہ کے دوران اضافہ ریکارڈ کیا جانے لگا ہے اور شہر حیدرآباد میں جی ایچ ایم سی کی جانب سے چلائے جانے والے بستی دواخانو ںمیں مریضوں کی تعداد میں ہونے والے اضافہ کے سلسلہ میں بلدی عہدیداروں کا کہناہے کہ ریاستی حکومت کی جانب سے شروع کی گئی اس اسکیم کے تحت بستی دواخانو ں میں مفت ادویات اور تشخیص سے عوام کی بڑی تعداد نے استفادہ کرنا شروع کیا ہے۔ ابتداء میں شہر حیدرآباد میں بستی دواخانوں سے استفادہ حاصل کرنے والوں میں غریب طبقہ سے تعلق رکھنے والوں کی تعداد زیادہ تھی اور بیشتر بستی دواخانوں کے سلم علاقو ںمیں قائم کئے جانے کے سبب ان علاقوں میں عوام کی جانب سے بستی دواخانوں میں فراہم کی جانے والی خدمات سے استفادہ نہیں کیا جا رہا تھا لیکن حالیہ جی ایچ ایم سی انتخابات سے قبل شہر کے بیشتر تمام علاقوں میں شروع کئے جانے والے بستی دواخانوں میں اب متوسط طبقہ کے علاوہ تمام طبقات سے تعلق رکھنے والے شہری بستی دواخانہ سے رجوع ہونے لگے ہیں اور مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کی جانب سے ان بستی دواخانو ںمیں خدمات کو مزید بہتر بنانے پر بھی توجہ مرکوز کی جانے لگی ہے ۔عہدیداروں کا کہناہے کہ شہر حیدرآباد میں بستی دواخانو ں کی خدمات سے استفادہ حاصل کرنے والوں کا ان دواخانو ںمیں خدمات انجام دینے والے ڈاکٹرس پر اعتمادمیںاضافہ ہوا ہے ۔شہر حیدرآبادمیں جی ایچ ایم سی کی جانب سے چلائے جانے والے بستی دواخانو ںمیں قابل ڈاکٹرس اور ہمہ وقت ادویات کی موجودگی کے علاوہ ضرورت پڑنے پر سرکردہ دواخانوں سے رجوع کئے جانے کی سہولت کے سبب شہری ان دواخانوںسے رجوع ہونے لگے ہیں۔ پرانے شہر میں موجود ایک دواخانہ میں خدمات انجام دینے والے ڈاکٹر نے بتایا کہ لاک ڈاؤن اور کورونا وائرس کے دوران جب خانگی کلینک بند تھے اس وقت مریضوں نے بستی دواخانوں کا رخ کرنا شروع کیا تھا اور اس کے بعد سے ان کے اعتماد میں اضافہ ہونے لگا ہے اور وہ اپنی بیماریوں اور روایتی تشخیص کے لئے بستی دواخانوں میں خدمات انجام دینے والے ڈاکٹرس سے رجو ع ہونے لگے ہیں ۔