بستی دواخانوں کے ذریعہ غریبوں کو موثر طبی خدمات : وزیر صحت

   

کے ٹی آر کے الزامات مسترد ، ریاست میں مزید 80 ڈائیلاسیس سنٹرس کا عنقریب آغاز
حیدرآباد ۔ 22 ۔ اکتوبر (سیاست نیوز) وزیر صحت دامودر راج نرسمہا نے پرائمری ہیلت سنٹرس اور بستی دواخانوں کی کارکردگی پر بی آر ایس ورکنگ پریسیڈنٹ کے ٹی آر کے الزامات کو مسترد کردیا۔ کے ٹی آر نے خیریت آباد کے علاقہ میں بستی دواخانہ کا دورہ کرتے ہوئے ادویات کی قلت کی شکایت کی تھی۔ دامودر راج نرسمہا نے الزامات کی مذمت کی اور کہا کہ ریاست بھر میں بستی دواخانوں میں روزانہ 45,000 سے زائد مریضوں کا علاج کیا جاتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی مقصد براری کیلئے بی آر ایس قائدین بستی دواخانوں کو نشانہ بنارہے ہیں ۔ وزیر صحت نے کہا کہ تمام بستی دواخانوں میں درکار ادویات وافر مقدار میں دستیاب ہے اور ادویات کی قلت کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ انہوں نے کہا کہ ڈائیگناسٹکس سنٹرس کے ذریعہ 134 طرح کے معائنے کئے جارہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مریضوں کو اندرون 24 گھنٹے رپورٹ فراہم کی جاتی ہے۔ وزیر صحت نے دعویٰ کیا کہ بستی دواخانوں کی بہتر خدمات کے نتیجہ میں عثمانیہ اور گاندھی ہاسپٹلس میں مریضوں کی تعداد میں کمی واقع ہوئی ہے ۔ دامودر راج نرسمہا نے کہا کہ سرکاری سطح پر بہتر طبی خدمات کی ستائش کرنے کے بجائے بی آر ایس قائدین بے بنیاد الزام تراشی کے ذریعہ عوام کو گمراہ کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عوامی صحت کے معاملہ میں سیاسی مقصد براری کی کوشش افسوسناک ہے ۔ انہوں نے کہا کہ مریضوں کو خانگی اور کارپوریٹ ہاسپٹلس منتقل کرنے کیلئے بستی دواخانوں کے خلاف مہم شروع کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے ڈاکٹرس اور میڈیکل اسٹاف کی بہتر خدمات کو ہمیشہ سراہا ہے اور تنقیدوں کی پرواہ کئے بغیر میڈیکل ٹیمیں خدمات جاری رکھیں گی۔ انہوں نے بی آر ایس قائدین کو مشورہ دیا کہ وہ بستی دواخانوں کے خلاف مہم ترک کردیں کیونکہ ان دواخانوں سے غریبوں کو موثر علاج کی سہولت حاصل ہے ۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ حکومت نے سرکاری دواخانوں میں بہتر طبی خدمات فراہم کرنے کیلئے ہر میڈیکل کالج کے ساتھ ہاسپٹل کو مربوط کیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ڈائلاسیس کے مریضوں کی تعداد میں اضافہ کو دیکھتے ہوئے حکومت نے ہر 30 کیلو میٹر کے فاصلہ پر ایک ڈائیلاسیس سنٹر قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ریاست میں 160 ڈائیلاسیس سنٹرس ہیں اور مزید 80 مراکز جلد ہی قائم کئے جائیں گے۔ 1