بسواکلیان میں قومی سطح کا ہمہ لسانی مشاعرہ اردوشعراء مدعو نہیں کئے گئے

   

Ferty9 Clinic

بیدر:۔ 8ریاستوں کے شعراء کو مدعو کرکے ہمہ لسانی آل انڈیا مشاعرہ بسواکلیان کے بی کے ڈی بی ہال میں اتوار کو منعقد ہواجس کی روداد آج یکم نومبر کے کنڑی اخبارات میں شائع ہوئی ہے۔ یہ مشاعرہ ناگپورکے جنوبی علاقائی ثقافتی مرکزاوربیدرکے کرناٹک ساہتیہ سنگھ اور کرناٹک جانپد پریشد کے اشتراک سے عمل میں آیا۔ جس میں دوآئی اے ایس افسران اسسٹنٹ کمشنر بسواکلیان مسٹر بھونیش پاٹل اور اسسٹنٹ کمشنر بیدرمحترمہ گریماپنوار(دونوں میاں بیوی) شریک رہے اورہمہ لسانی مشاعرے کو مخاطب بھی کیا۔ بسواکلیان کے تازہ کار ایم ایل اے شرنو سلگربھی اس میں شریک رہے۔ اخباری رپورٹ کے مطابق ہندی ، مراٹھی اور کنڑاتین زبانوں کے شعراء نے اپنااپناکلام پیش کیا۔ اخباری رپورٹ میں کسی اردو شاعر کا نام شامل نہیں ہے۔ افسوس اس بات کا ہے کہ بیدر کی سرزمین لسانی تاریخی سرزمین ہے ۔ یہاں 600سال پہلے اردو کی پہلی مثنوی ’’کدم راؤ پدم راؤ‘‘ تحریر کی گئی ۔ اتنا ہی نہیں بیدر کی حنائی سرزمین اردو اوردکنی شاعری کے ابتدائی مراکز میں شامل ہے ۔بیدر کے ذکر کے بغیر اردو اوردکنی ادب کی تاریخ مکمل نہیں ہوسکتی۔ ایسی زمین پر ہمہ لسانی مشاعرے میں اردو زبان کے شعراء کو شامل کرنے سے احتراز کیاجاتاہے تو پھر غور کرنا پڑے گا کہ کہاں کمی رہ گئی ؟ پہلی بات تو یہ ہے کہ ضلع بیدر میں سینکڑوں اردو میڈیم کے سرکاری مدارس ہیں ۔اور کئی انگریزی اسکول ایسے ہیں جہاں ایک مضمون اردوپڑھایاجاتا ہے۔دوسری بات یہ ہے کہ بیدر سرحدی ضلع ہے ۔ یہاں ایک زبان نہیں بلکہ کئی زبانیں بیک وقت بولی جاتی ہیں جن میں اولیت کا شرف اردو کو حاصل ہے۔ غیرمسلم بھائی بھی ہندی کے نام پر اردو زبان بولتے ، سمجھتے اورہندی کے نام پر اردو میں ہی کاروبارکیا کرتے ہیں یعنی ضلع میں اردو ایک معروف اورجانی مانی زبان ہے۔ تیسری بات یہ ہے کہ یہاں اردو کے کئی ایک شعراء رہتے ہیں جن سے متعلق خبریں ہرہفتہ پندرہ دن میں اخبارات اور چینل کی زنیت بنتی ہیں ۔ خود بسواکلیان کے نوجوان شعراء میں مسرورؔ نظامی ، محمد قاسم اور مقیم باگ شامل ہیں جن کاکلام معروف اخبارورسائل میں شائع ہوتارہتاہے۔ سوال یہی ہے کہ ہمہ لسانی قومی مشاعرے میں اردو شعراء کو نظر انداز کرنے کی تکنیک کس چیز کا حصہ ہے؟ اس کا پتہ لگانا ،اسسٹنٹ کمشنراور تعلقہ مجسٹریٹ ( تحصیلدار) تک اردو شعراء کو مدعو نہ کرنے کی بات پہنچانا ضروری ہے۔اس کے علاوہ مذکورہ اداروں کے ذمہ داران میں سے ڈاکٹر جگناتھ ہباڑے اور ڈاکٹر راج کمار ہباڑے سے ملاقات بھی لازمی ہے تاکہ اگر کچھ غلط فہمیاں ہوں تو ان کو دور کیاجاسکے۔کیا شعرائے کرام یہ اقدام اٹھانا پسند کریں گے؟