123 عہدیداروں کے خلاف کارروائی کب شروع ہوگی ؟ سنٹرل ویجیلنس کمیشن کی رپورٹ
نئی دہلی۔ 10 جون (سیاست ڈاٹ کام) سنٹرل ویجیلنس کمیشن ( سی وی سی) چار ماہ سے اس بات کا انتظار کررہی ہے کہ مختلف تنظیمی آئی اے ایس اور مرکزی اداروں کیلئے سی بی آئی اور انکم ٹیکس میں کام کرتے ہوئے 123 سرکار ملازمین جو بدعنوانی میں ملوث ہیں، ان کے خلاف کب کارروائی شروع کرتی ہیں۔ جملہ بدعنوانی عہدیداروں میں سب سے زیادہ یعنی 45 عہدیداروں کا تعلق ریاستی محکمہ جات سے ہے۔ قواعد و ضوابط کے لحاظ سے بدعنوان عہدیدار کے خلاف کارروائی کی منظوری کا فیصلہ چار ماہ کے اندر کرنا ہوتا ہے۔ مذکورہ عہدیداروں کے خلاف 57 کیسیس منظوری نہ ہونے کے سبب زیرالتواء ہیں۔ سب سے زیادہ کیس سنٹرل آف پرسنل سے تعلق رکھتے ہیں۔ یہ وزارت انسداد رشوت ستانی کے معاملات میں رابطہ کا کام انجام دیتی ہے۔ اس کے بعد ریلویز کی وزارت میں 5 کیسیس التواء میں ہیں۔ اس طرح حکومت اترپردیش سے تعلق رکھنے والے بھی ایسے 5 معاملات ہیں۔ علیحدہ علیحدہ کیوں ہیں جن میں ایڈیشنل سپرنٹنڈنٹ آف پولیس، سنٹرل بیورو آف انوسٹی گیشن، اسسٹنٹ ڈائریکٹر آف دی انفورسمنٹ ڈائریکٹر اور ایک انکم ٹیکس افسر کے خلاف بھی قانونی کارروائی کیلئے منظوری درکار ہے۔ 45 ملازمین کے خلاف 15 کیسیس التواء میں ہیں۔ ان ملازمین کا تعلق بینکی شعبہ سے ہے جن میں اسٹیٹ بینک آف انڈیا ، کنارا بینک ، کارپوریشن بینک، بینک آف مہاراشٹرا، پنجاب نیشنل بینک، الہ آباد بینک، سنڈیکیٹ بینک اور اورینٹل بینک آف کامرس شامل ہیں۔ سی وی سی کی رپورٹ کے مطابق سات کیسوں میں جن میں 16 افسر ملوث پائے گئے ہیں، ان کا تعلق ڈپارٹمنٹ آف پرسنل اینڈ ٹریننگ، کنارا بینک، اسٹیٹ بینک آف انڈیا، پنجاب بینک، بینک آف بڑودہ اور سنڈیکیٹ بینک سے بتایا گیا۔ سنٹرل ویجیلنس کمیشن نے اس بات سے اتفاق کیا کہ مختلف کیسوں میں ملوث عہدیداروں کے خلاف کارروائی کیلئے سی وی سی کو کسی کی اجازت نہیں ہے۔
