بنگلور: چیف جسٹس ڈاکٹر ڈی وائی چندر چوڑ نے کہا کہ بطور وکیل ہمیں امتیازی سلوک اور ناانصافی کے خلاف کھڑے ہونے کو یقینی بنانا چاہیے۔بنگلورو میں نیشنل لا اسکول آف انڈیا یونیورسٹی کے 31 ویں سالانہ کانووکیشن سے خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس نے وضاحت کی کہ انہیں بتایا گیا تھا کہ ایک نوجوان قانون کا طالب علم جو لا کے دفتر میں انٹرن کرنے گیا تھا،اس سے پوچھا گیا کہ اس کی ذات کیا ہے؟ اس نے بتایا تو اسے دفتر نہ آنے کو کہا گیا۔ اس بات نے مجھے مایوسی سے بھر دیا۔بطور وکلاء، ہمیں امتیازی سلوک اور ناانصافی کیخلاف کھڑے ہونے کو یقینی بنانا چاہیے۔ ہمیں آئینی اقدار کی پاسداری کو یقینی بنانا ہے۔ جب کہ کچھ وکلاء آئینی اقدار کو برقرار رکھنے کے بجائے قانون کی خلاف ورزی کر رہے ہیں۔سپریم کورٹ اس وقت بنیادی آئینی مسائل میں مصروف ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ اگر ایک اچھا انسان اور اچھا وکیل ہونا کہیں ٹکراتا ہے تو میں آپ سے ایک اچھا انسان بننے کی تاکید کرتا ہوں۔ انہوں نے مزید کہا کہ وکالت کا پیشہ دھیرے دھیرے زیادہ سے زیادہ خواتین وکلاء کے داخلے کیلئے ایک ابتدائی نکتہ بنتا جا رہا ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ زندگی کے اس سفر میں اس سیڑھی کو کبھی لات نہ مارو جو آپ کو اوپر لے گئی ہے۔