بغاوت کی سازش کا الزام ،سابق برازیلی صدر کو سزائے قید

   

برازیلیا، 12 ستمبر (یواین آئی) برازیل کے سابق صدر جائیر بولسونارو (70) کو فوجی بغاوت کی منصوبہ بندی کے الزام میں 27 سال اور تین ماہ قید کی سزا سنائی گئی ہے ۔ سپریم کورٹ کے پانچ ججوں کے ایک پینل نے سابق صدر کو سزا قصوروار ٹھہرائے جانے کے چند گھنٹے بعد ہی یہ سزا سنائی۔بولسنارو پر 2022 کا الیکشن اپنے بائیں بازو کے حریف لوئیز اناسیو لولا دا سلوا سے ہارنے کے بعد اقتدار میں برقرار رہنے کے مقصد سے کی گئی ایک سازش کی قیادت کا الزام ہے ۔چار ججوں نے اسے قصوروار قرار دیا جبکہ ایک نے انہیں بری کرنے کو کہا۔بولسنارو، جو گھر میں نظر بند ہیں، مقدمے میں شریک نہیں ہوئے ۔امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا کہ برازیل کی سپریم کورٹ نے سابق صدر جائیر بولسونارو کو قید کرنے کا ایک غیر منصفانہ فیصلہ نافذ کیا ہے اور اس سازش کا جواب دینے کی دھمکی دی۔برازیل کے وزارت خارجہ نے فوری طور پر رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے ایکس پر پوسٹ کیا کہ ‘امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کی جانب سے آج دی جانے والی دھمکیاں ایک برازیلی اتھارٹی پر حملہ کرنے والے اور ریکارڈ میں موجود حقائق اور ٹھوس شواہد کو نظر انداز کرنے والے بیان ہماری جمہوریت کو متاثر نہیں کرے گا۔توقع ہے کہ سابق صدر کے وکلاء بحث کریں گے کہ انہیں جیل میں ڈالنے کے بجائے نظر بند رکھا جائے ۔ وہ کم سزا کی استدعا بھی کریں گے ۔ تاہم وہ اس فیصلے کے خلاف اپیل نہیں کر سکیں گے ۔