میری بیوی بشریٰ بیگم کو بھی جیل میں ڈالا جا سکتا ہے ، عمران خاں کا الزام
لاہور : پاکستان کے سابق وزیر اعظم عمران خان نے پیر کو دعویٰ کیا کہ ملک کی طاقتور ملٹری اسٹیبلشمنٹ نے انہیں بغاوت کے الزامات کے تحت اگلے 10 سال تک جیل میں رکھنے کا منصوبہ بنایا ہے۔ عمران خان نے یہ دعوے پیر کی علی الصبح اپنی لاہور کی رہائش گاہ پر پی ٹی آئی رہنماؤں کی میٹنگ کے بعد پوسٹ کیے گئے ایک سلسلے کی ٹویٹس میں کیے ہیں۔پاکستان تحریک انصاف کے چیف عمران خان نے کہا کہ لہذا اب لندن کا مکمل منصوبہ ختم ہو گیا ہے۔ جب میں جیل کے اندر تھا تو تشدد کا بہانہ استعمال کرتے ہوئے ایسا کیا گیا۔ انہوں نے جج، جیوری اور جلاد کا کردار سنبھال لیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اب منصوبہ یہ ہے کہ بشریٰ بیگم (عمران خان کی اہلیہ) کو جیل میں ڈال کر مجھے ذلیل کیا جائے اور مجھے اگلے دس سال تک جیل میں رکھنے کے لیے بغاوت کا قانون استعمال کیا جائے۔70 سالہ رہنما عمران خان نے کہا کہ اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کہ عوامی ردعمل نہ ہو اس کیلئے انھوں نے دو کام کیے ہیں ۔ پہلا جان بوجھ کر دہشت گردی صرف پی ٹی آئی کے کارکنوں پر نہیں بلکہ عام شہریوں پر کی جاتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ دوسرا یہ کیا کہ میڈیا مکمل طور پر کنٹرول اور مسلط ہے۔کرکٹر سے سیاست دان بنے عمران خان نے کہا کہ کبھی بھی چادر اور چار دیواری کے تقدس کو اس طرح پامال نہیں کیا گیا جس طرح ان مجرموں کی طرف سے کیا جا رہا ہے۔