واشنگٹن ۔ 29 اکٹوبر (سیاست ڈاٹ کام) دولت اسلامیہ کے بانی ابوبکر البغدادی کی باقیادت کو مناسب طور پر ٹھکانے لگادیا گیا ہے جس میں ایس او پی یعنی ’’اسٹینڈرڈ آپریٹنگ پراسیجر‘‘ اور جنگی قوانین کو ملحوظ رکھا گیا ہے۔ امریکہ کے ایک اعلیٰ سطحی فوجی جنرل کے مطابق امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے اتوار کے دن یہ اطلاع دی تھی کہ دنیا کے سب سے زیادہ مطلوب دہشت گرد ابوبکر البغدادی نے خود کو دھماکہ سے اس وقت اڑا لیا جب ایک سرنگ میں امریکی کھوجی کتے ان کا پیچھا کررہے تھے اور یہ تعاقب اس وقت تک جاری رہا جب تک سرنگ کا کنارہ ختم نہ ہوگیا۔ اس کے بعد بوکھلائے ہوئے خوفزدہ البغدادی نے خود کو دھماکہ سے اڑا لیا۔ قبل ازیں بغدادی کی گرفتاری کیلئے امریکہ کی خصوصی فوج شمال مغربی شام میں دھاوے کئے تھے اور اس طرح ایک سال سے جاری 48 سالہ البغدادی کی تلاش ختم ہوئی۔ پنٹاگان میں اخباری نمائندوں سے بات کرتے ہوئے جوائنٹ چیفس آف اسٹاف جنرل مارک ملے نے کہا کہ بغدادی کی باقیات کو ایک محفوظ مقام پر منتقل کیا گیا تھا جہاں فارنسک ڈی این اے ٹسٹ کے ذریعہ اس کی شناخت کی گئی اور باقیات کو ٹھکانے لگادیا گیا۔ اس عمل سے بخوبی نمٹا گیا ہے جس کیلئے ایس او پی اور جنگی قوانین کو ملحوظ رکھا گیا ہے۔
اسامہ کی طرح البغدادی کی نعش کو بھی سمندر برد کرنے کا دعویٰ
امریکہ نے شام میں امریکی خصوصی سلامتی دستوں کی کارروائی میں مارے گئے دولت اسلامیہ کے سرغنہ ابو بکرالبغدادی کی نعش کو سمندر برد کردیا ہے۔ امریکی حکومت کے ذرائع نے بتایا کہ بغدادی کی نعش کو معیاری طریقہ عمل اور مسلح تنازعات کے قانون کے تحت مکمل طورپر پر اسلامی رسم و رواج کے مطابق سمندر میں دفن کردیاگیاحالانکہ انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ اسے کس جگہ پر دفنایا گیا اور اس عمل میں کل کتنا وقت لگا۔انہوں نے بتایا کہ ان کا خیال ہیکہ بغدادی کی نعش کو طیارے سے سمندر میں ڈال دیاگیا ہے ۔ذرائع نے بتایا کہ بغدادی کی نعش کو فورنسک ڈی این اے جانچ کیلئے ایک محفوظ مرکز پر لے جایاگیا تھا تاکہ اسکی شناخت کی تصدیق کی جاسکے۔ اسکے بعد اسے دفن کردیا گیا۔اس سے پہلے القاعدہ کے سرغنہ اسامہ بن لادن کو بھی اسی طرح سمندر میں دفنایا گیاتھا لیکن اسے دفن کرنے سے پہلے کافی لمبا عمل اختیا کیاگیا تھا۔اسکی نعش کو طیارہ بردار جہاز یوایس ایس کارل ونسن سے سمندر میں لے جایا گیا اور سفید چادر دمیں لپیٹ کر سمندر میں ڈال دیا گیا۔ لادن 2011 میں پاکستان کے ایبٹ آباد میں امریکی کارروائی میں مارا گیا تھا۔