انتہاپسندوں تنظیموں کے اہم لیڈروں کی موت کے بعد نئے لیڈر ابھرتے ہیں
پیرس ۔ /27 اکٹوبر (سیاست ڈاٹ کام) داعش لیڈر ابوبکر البغدادی کی ہلاکت کو انتہاپسند گروپ کیلئے نیا دھکہ قرار دیا جارہا ہے ۔ عراق اور شام کے کئی علاقوں پر کنٹرول رکھنے والے اس گروپ کے لیڈر کی موت کے بعد مسئلہ یہیں ختم نہیں ہوتا بلکہ جہادیوں کا خطرہ برقرار رہے گا ۔ تجزیہ کاروں نے کہا کہ آئی ایس اور انتہاپسند جہادی تحریک سے وابستہ افراد کی تاریخ شاہد ہے کہ کچھ برسوں تک یہ لوگ خاموشی اختیار کرتے ہیں اور دوبارہ نمودار ہوتے ہیں۔ پہلے سے زیادہ طاقتور بن کر تباہی مچاتے ہیں ۔ تجزیہ کاروں نے مزید کہا کہ اس گروپ کی کارروائیوں سے پتہ چلتا ہے کہ یہ لوگ بغدادی کی موت کیلئے تیار تھے ۔ اسی لئے ان گروپ کے لوگوں نے نئے حملوں کی تیاری کرلی ہے ۔ پیرس میں مشرق وسطیٰ کا جائزہ لینے والے ایک پروفیسر جین پیرے فیلیو نے کہا کہ بغدادی کی موت آئی ایس کیلئے سب سے بڑا دھکا ہے ۔ بغدادی نے 2014 ء میں ایران اور شام کے کئی حصوں میں خود کو نئے ’’خلیفہ‘‘ کی حیثیت سے متعارف کرایا تھا ۔ /11 ستمبر 2001 ء کو امریکہ پر دہشت گرد حملہ کرنے والے اصل کار ساز بن لادن کو مئی 2011 ء میں پاکستان میں امریکی کارروائی میں ہلاک کیا گیا تھا لیکن ان کی موت نے القاعدہ سے وابستہ تنظیموں کو حملے کرنے اور دنیا بھر میں دھماکے کرنے سے باز نہیں رکھا ۔ القاعدہ پہلے سے زیادہ طاقتور بن کر ابھری ۔ اسی طرح النصرہ فرنٹ گروپ بھی شام میں طاقتور ہوا ۔ داعش نے خود کش عالمی دہشت گرد گروپ کے طور پر متعارف کروایا ۔ ہشام الہاشمی نامی دہشت گرد تنظیم بھی بغداد میں سرگرم تھی ۔