بغداد اور واشنگٹن کے درمیان تعلقات کی ’’نئی حقیقت‘‘ کا انکشاف

   

Ferty9 Clinic

واشنگٹن: ایسا نظر آ رہا ہے کہ امریکی حکومت عراق میں اٹل اور ناقابل واپسی اقدامات کا عزم کر چکی ہے۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی انتظامیہ ان اقدامات کے ذریعے عراق میں سفارتی اور سیکورٹی منظر نامے کو تبدیل کر سکتی ہے اور ساتھ ہی عراقیوں اور ایرانیوں کے ساتھ تعامل کے حوالے سے ایک نئی حقیقت سامنے آ سکتی ہے۔ اگر ٹرمپ وائٹ ہاؤس میں نہ رہے تو ان کی جگہ آنے والا امریکی صدر اس نئی حقیقت کے ساتھ باہمی بقاء پر مجبور ہو جائے گا۔اس بحران کی بازگشت ایک ماہ قبل عراقی وزیر اعظم مصطفی الکاظمی کے واشنگٹن کے دورے کے بعد سے سنائی دے رہی ہے۔ الکاظمی اور ٹرمپ کی ملاقات نے مثبت فضا کا بھرپور تاثر دیا۔ عراقی وزیر اعظم کے ہمراہ وفد کے افراد نے بھی یہ کہا کہ ان کی حکومت کے امریکیوں کے ساتھ اچھے تعلقات ہیں اور عراقیوں کی جانب سے عراق میں امریکیوں کا خیر مقدم کیا جا رہا ہے۔ دورے میں امریکیوں نے الکاظمی کو واضح طور پر یہ پیغام دیا کہ وہ اس بات کے منتظر ہیں کہ عراقی حکومت اپنے ملک میں زمینی صورت حال پر کنٹرول حاصل کر لے گی۔امریکیوں کے نزدیک مصطفی الکاظمی ایسا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور ان کو یہ اقدام کرنا ہو گا۔