حیدرآباد۔27جنوری(سیاست نیوز) اکریڈیشن نہ رکھتے ہوئے گاڑیوں پر پریس لکھوانے والوں کی اب خیر نہیں کیونکہ محکمہ اطلاعات و تعلقات عامہ نے احکام جاری کرکے واضح کردیا کہ جن کے پاس اکریڈیشن موجود ہے وہ صحافی ہی اپنی گاڑی پر Press لکھوانے کے مجاز ہیں اور ان کے علاوہ کوئی اور گاڑی پر ’پریس‘ لکھواتا ہے تو قانون نافذکرنے والی ایجنسیاں انہیں موٹر وہیکل ایکٹ کے مطابق چالان کرنے کی مجاز ہوں گی۔ کرناٹک ہائی کورٹ کے فیصلہ کے بعد گاڑیوں پر غیر قانونی اسٹیکرس بالخصوص جھنڈے‘ ایمبلم ‘ لوگو‘ خاص طور پر ایڈوکیٹ اور Press کو نکالنے کی ہدایات جاری کی گئی ہیں ۔ کرناٹک ہائی کورٹ کے فیصلہ کے بعد ٹرانسپورٹ کمشنر تلنگانہ نے اسے سختی سے نافذکرنے ہدایات جاری کی ہیں۔ کمشنر انفارمیشن اینڈ پبلک ریلیشن محترمہ سی ایچ پرینکا نے ایک میمو میں ریاست کے تمام ڈی پی آر اوز کیلئے احکام جاری کئے کہ وہ صحافتی برادری میں کرناٹک ہائی کورٹ احکامات سے متعلق شعور اجاگر کرکے اس بات کا پابند بنائیں کہ اگر وہ اکریڈیشن کارڈ رکھتے ہیں تو ہی گاڑیوں پر Press لکھوائیں اور اگر اکریڈیشن نہیں ہے تو پریس لکھوانے سے گریز کریں کیونکہ گاڑیوں پر ایسی تحریریں غیر قانونی ہیں اور موٹر وہیکل ایکٹ کی دفعہ 50اور51 کے خلاف ہے ۔3