سرٹیفیکٹس کی تصدیق کی جائے گی ، شہر میں سرٹیفیکٹس کیلئے من مانی رقم کی وصولی
حیدرآباد۔3۔ڈسمبر(سیاست نیوز) حکومت کی جانب سے شہر میں جگہ جگہ ٹیکہ اندازی کے سرٹیفیکیٹ کی جانچ کے فیصلہ کے ساتھ ہی ٹیکہ حاصل کئے بغیرسرٹیفیکیٹ حاصل کرنے والوں کی کوششیں مہنگی ہونے لگی ہیں اور جو لوگ ٹیکہ اندازی کے بغیر سرٹیفیکیٹ حاصل کررہے ہیں انہیں اب 1500 روپئے ادا کرنے پڑرہے ہیں۔ دونوں شہروں حیدرآباد وسکندرآباد میں ٹیکہ اندازی کے بغیر سرٹیفیکیٹ کی اجرائی کے اسکام پر روک لگانے کی کوشش نہ کئے جانے کے سبب 500تا 700 روپئے میں ٹیکہ اندازی کے سرٹیفیکیٹ فروخت کئے جانے لگے تھے اور جو لوگ ٹیکہ اندازی سے خائف ہیں وہ ٹیکہ حاصل کرنے کے بجائے یہ سرٹیفیکیٹ حاصل کرنے لگے تھے لیکن ان میں بڑی تعداد بیرون ملک سفر کے خواہشمندوں کی تھی لیکن اب جبکہ ریاستی حکومت کے محکمہ صحت کی جانب سے عوامی مقامات پر ٹیکہ اندازی کے سرٹیفیکیٹ کی جانچ کا فیصلہ کیا گیا ہے اس کے فوری بعد ٹیکہ اندازی کے بغیر سرٹیفیکیٹ جاری کرنے والوں نے اس کی قیمت میں اضافہ کردیا ہے ۔ ٹیکہ نہ لیتے ہوئے سرٹیفیکیٹ کا حصول خود کو دھوکہ دینے کے مترادف ہے لیکن اس کے باوجود ٹیکہ اندازی کے بغیر سرٹیفیکیٹ حاصل کرنے والوں کی تعداد میں کوئی کمی ریکارڈ نہیں کی جا رہی ہے بلکہ اب ٹیکہ کے حصول کے بجائے سرٹیفیکیٹ کے حصول کی کوشش میں اضافہ دیکھا جانے لگا ہے اور اس اضافہ کو دیکھتے ہوئے ٹیکہ اندازی کرنے والے بد عنوان عملہ کی جانب سے صرف سرٹیفیکیٹ کی اجرائی کی رقم میں اضافہ کردیا گیا ہے اور وہ 1500 روپئے تک وصول کرنے لگے ہیں۔ ریاستی حکومت بالخصوص محکمہ صحت اور مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کی جانب سے شہر حیدرآباد میں جاری کئے جانے والے ٹیکوں کے سرٹیفیکیٹ کی بھی جانچ کئے جانے کا امکان ہے اور کہا جا رہاہے کہ ٹیکہ اندازی سرٹیفیکیٹ کی جانچ کے ساتھ ساتھ قوت مدافعت کے معائنوں کے سلسلہ میں بھی اقدامات کا جائزہ لیا جا رہاہے۔ م