حیدرآباد :۔ بائیک ٹیکسیز پر ڈرائیور کے عقبی نشست پر بیٹھ کر بغیر ہیلمیٹ سفر کرنے پر جرمانہ عائد کرنے کے لیے نیا شروع کیا گیا چالان سسٹم ٹیکسی رائیڈرس کے لیے بڑے مسائل کا باعث بن رہا ہے جو کرایہ پر بائیکس پر سوار ہوتے ہیں جیسے ریاپیڈو ، اولا اور اوبیر ۔ بائیک اگریگیٹرس نے کیپٹنس ( بائیک ڈرائیورس ) کو ہدایت دی ہے کہ اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ عقبی نشست پر بیٹھ کر سفر کرنے والے ہیلمیٹ پہنیں حیدرآبادی اسٹائیل میں جب کہ کئی پلیئن رائیڈرس ( بائیک پر پیچھے کی سیٹ پر بیٹھ کر سفر کرنے والے ) ہیلمیٹ پہننے کے لیے آمادہ نہیں ہیں اور اس کے لیے مختلف وجوہات بتاتے ہیں ۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ کسی اور کی جانب سے استعمال کئے گئے ہیلمیٹ کا استعمال نہیں کریں گے ۔ یہ صحت کے لیے ٹھیک نہیں ہوسکتا ہے ۔ اس کے علاوہ گرما کی گرمی کی وجہ اس سے پسینہ آئے گا۔ ہیلمیٹ میں کورونا وائرس بھی ہوسکتا ہے ۔ ریاپیڈو کے ایک بائیک کیپٹن منیر احمد نے کہا کہ ’ مجھے اپنی پوری زندگی میں بائیک پر کبھی چالان نہیں ہوا کیوں کہ میں ہمیشہ قانون کی پابندی کرتا ہوں اور ہیلمیٹ قاعدہ پر عمل کرتا ہوں اور ہمیشہ درکار دستاویزات رکھتا ہوں ۔ لیکن مجھے اس وقت حیرت ہوئی جب ایک پلیئن رائیڈر کے ہیلمیٹ نہ پہننے پر 23 مارچ کو مجھے 150 روپئے کا پہلا چالان ہوا ۔ منیر نے کہا کہ ’ دراصل ایک خاص تاریخ کو میں ایک کسٹمر کو ڈراپ کررہا تھا اور اس نے ہیلمیٹ پہننے سے اس لیے انکار کیا کیوں کہ وہ کورونا وائرس کی لہر کے باعث خوفزدہ تھا ۔ جب میں نے اس کے لیے اصرار کیا تو اس نے مجھ سے سوال کیا کہ اگر وہ غیر ضروری طور پر اس مہلک وائرس سے متاثر ہوجائے تو کون ذمہ دار ہوگا ۔ کیوں کہ یہی ہیلمیٹ کو ہر کسٹمر پہنتا ہے ۔ اب بڑا سوال یہ ہے کہ چالان کے لیے کون ذمہ دار ہے ؟ ایک اور کیپٹن شیوانائیک نے کہا کہ ’ ہمارے ساتھ پچھلی نشست پر بیٹھ کر سواری کرنے والے کسٹمرس ہیلمیٹس پہننا نہیں چاہتے کیوں کہ اس میں پسینہ کی بو ہوتی ہے اور یہ پوری طرح سمجھ میں آنے والی بات ہے کیوں کہ اگر ایک کسٹمر ہیلمیٹ پہننے کے بعد اس میں پسینہ چھوڑتا ہے اور پھر چند منٹ کے اندر ہی ہم کو ایک سوار مل جاتا ہے تو اگر ہم اسی ہیلمیٹ کو پہننے کے لیے اس سے کہتے ہیں تو وہ چڑ جاتا ہے‘ ۔۔