تل ابیب: اسرائیل کا ، بین الاقوامی اعتراضات کے باوجود، خاص طور پر اس کے قریبی اتحادی امریکہ کی طرف سے۔ غزہ کی پٹی میں بفر زون بنانے کا منصوبہ شروع ہو چکا ہے اور اس کے کچھ حصے پر عملدرآمد بھی ہو چکا ہے۔سیٹلائٹ سے حاصل کی گئی تصاویر سے پتہ چلتا ہیکہ اسرائیلی فورسز نے غزہ پٹی کی اسرائیل کے ساتھ سرحد پر تقریبا ایک کلومیٹر جگہ پر تازہ ترین مسماری کی کارروائی کی ہے۔ جس سے ان زمینوں کی چیر پھاڑ اور ٹکڑے ٹکڑے کرنے کی کوششوں میں اضافہ ہوتا ہے جن پر فلسطینی اپنی ریاست قائم کرنا چاہتے ہیں۔ اسرائیلی فوج نے اس بات کا جواب دینے سے انکار کر دیا کہ آیا اس نے پہلے ہی بفر زون قائم کرنا شروع کردیا ہے، جس کے بارے کئی اسرائیلی حکام کہہ چکے ہیں کہ وہ ملک کو مستقبل میں 7 اکتوبر جیسے کسی بھی حملے سے محفوظ رکھ سکتا ہے۔اسرائیل نے نے اشارہ دیا ہیکہ وہ ایک ایسے دفاعی منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کیلئے بہت سے ضروری اقدامات کر رہا ہے جو ملک میں بہتر سیکورٹی فراہم کرتا ہے۔تاہم ایک اسرائیلی سرکاری اہلکار جس نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر اس بات کی تصدیق کر دی ہیکہ ان کے ملک کی افواج نے عملی طور پر ایک ’’عارضی سیکورٹی بفر زون‘‘ قائم کرنا شروع کر دیا ہے۔
